کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم چار بھائیوں کا مشترکہ کاروبار ہے جس میں سرمایہ کا تناسب برابر ہے اورسرمایہ بھی سب بھائیوں کا ذاتی ہے ، اب ہم اس کاروبا ر کوآپس میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم بھائیوں میں ایک بھائی کی دوشادیاں ہیں وہ ڈبل حصے کا مطالبہ کرتا ہے تو کیا اس بھائی کی دوشادیوں کی وجہ سے دیگر بھائیوں کے مقابلہ میں ڈبل حصے کا مطالبہ کرنا جائز ہے؟
صورت مسئولہ میں جس بھائی کی دوشادیاں ہیں ، اگر اس کا سرمایہ بھی دیگر بھائیوں کے برابر تھا ،تو شراکت ختم کرنے کی صورت میں صرف دوشادیوں کی بناء پر ڈبل حصے کا مطالبہ کرنا شرعا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی الدر: اعلم ان اسباب الملک ثلاثۃ: ناقل کبیع وھبۃ و خلافۃ کارث واصالۃ الخ ( کتاب الصید، ج 6، ص 463، ط: ایچ ایم سعید )
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0