السلام علیکم، مولوی صاحب! میرا ایک دوست مرغی کا کاروبار کرتا ہے، اس کی ایک دکان ہے۔ اس نے مجھ سے کاروبار کے لئے 5 لاکھ روپے لیے ہیں، اور وہ مجھے ہر مہینے (منافع) دیتا ہے۔ پیسے دیتے وقت ہماری یہ بات طے ہوئی تھی کہ وہ مجھے ہر مہینے کچھ نہ کچھ نفع دے گا، چاہے وہ ایک روپیہ ہو یا ایک لاکھ ، میں نے اس سے کوئی خاص رقم کا مطالبہ نہیں کیا، صرف اتنا کہا تھا کہ جو جائز منافع ہو، زیادہ سے زیادہ وہ مجھے دے دینا۔ اب وہ کبھی 30 ہزار دیتا ہے، کبھی 35 ہزار، اور کبھی 25 ہزار۔ تو کیا یہ نفع میرے لئے حلال ہے یا حرام؟
واضح ہو کہ اگر کسی کاروبار میں ایک فریق کی جانب سے صرف سرمایہ ہو اور دوسرے فریق کی جانب سے صرف محنت، یعنی عملی کام ہو تو شریعت میں اس قسم کے معاملے کو "عقدِ مضاربت" کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی صحت و درستگی کی ضروری شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ نفع کی تقسیم دونوں فریقوں کے درمیان عقد کرتے وقت باقاعدہ فیصدی تناسب سے متعین ہو جوکہ باہمی رضامندی سے دونوں فریق کسی بھی تناسب سے طے کرسکتے ہیں۔ اور اگر دونوں فریق کاروبار میں اپنا اپنا سرمایہ شامل کریں، تو اس قسم کا معاملہ شرعاً ” شرکتِ عنان“ کہلاتاہے۔ جس میں نفع کی تقسیم سرمایہ کی تناسب سے طے کرناشرعاً ضروری ہوتاہے۔
صورتِ مسئولہ میں اس بات کی وضاحت موجود نہیں کہ سائل اور مذکور شخص کےدرمیان ہونےوالا معاہدہ عقدِ مضاربت ہے (یعنی کل سرمایہ سائل کا ہے اور محنت مرغی فروش کی) یا عقدِ شرکت(یعنی دونوں سرمایہ میں اپنے اپنے حصہ کے بقدر شریک ہیں) تاہم دونوں صورتوں میں مذکور معاملہ شرعاً درست نہیں، کیونکہ اگر مذکور سرمایہ شرکت کی بنیاد پر ہو تو اس میں نفع کی تقسیم سائل اور اس کے دوست کے درمیان ہر ایک کے سرمایہ کے تناسب سے کرنا ضروری ہے۔ اور مذکور سرمایہ کاری مضاربہ کی صورت میں ہوتو نفع کی فیصدی تناسب سے طے نہ کرنے کی وجہ سے شرعاً یہ مضاربہ فاسدہ کے حکم میں ہے۔ لہذا دونوں صورتوں(شرکت ومضاربت) میں اس معاملہ کو برقرار رکھنے کے بجائے فوری ختم کرنا لازم و ضروری ہے۔ جبکہ مذکور عقد اگر شرکتِ فاسدہ کی صورت بن رہاہوتو چونکہ شرکت فاسدہ سے حاصل شدہ نفع کو ہر ایک کے سرمایہ کے حساب سے تقسیم کرنا ضروری ہوتاہے، اس لیے سائل اور اس کا دوست اب تک کے نفع کو اپنے سرمایہ کے تناسب سے آپس میں تقسیم کرلیں اور مذکور عقد اگر مضاربہ فاسدہ ہو تو اس کا حکم یہ ہےکہ اصل سرمایہ اور حاصل ہونے والا کل نفع خرچ نکالنے کے بعد رب المال(سرمایہ دار/سائل) کو دیا جائےاور مضارب (محنت کرنے والے /مرغی فروش) کو اجرتِ مثل ( اس جیسے کام پر جتنی اجرت دینے کا رواج ہے) ملے گی۔ اس کے بعد دونوں فریق معاہدہ کرنا چاہتے ہوں تو شرکت یا مضاربت کی شرعی شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئےاز سر نو معاہدہ کرسکتے ہیں۔
کما فی درر الأحکام فی شرح غرر الأحکام: فله أجر مثله لأنه لم يرض بالعمل مجانا ولا سبيل إلى المسمى المشروط للفساد فيصار إلى أجر المثل ضرورة والربح لرب المال لأنه نماء ملكه اھ (شروط المضاربۃ،ج:2، ص:311، ناشر دار احیاء الترث العربی)-
وفی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (وإن فسدت) المضاربة بشيء (فأجير) لأن المضارب عامل لرب المال وما شرطه له كالأجرة على عمله، ومتى فسدت ظهر معنى الإجارة فلا ربح حينئذ لأنه يكون في المضاربة الصحيحة، ولما فسدت صارت إجارة (فله) أي للمضارب (أجر مثله) أي أجر مثل عمله كما هو حكم الإجارة الفاسدة (ربح أو لم يربح) اھ (کتاب المضاربۃ، ج:2، ص: 322، ناشر: دار احیاء التراث العربی)-
وفی الھدایۃ: قال: "ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة" من الربح لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما ولا بد منها كما في عقد الشركة اھ ( کتاب المضاربۃ، ج:3، ص: 300، ناشر: دار احیاء الترث العربی )-
و فیھا: أیضاً: وكل شرط يوجب جهالة في الربح يفسده لاختلال مقصوده، وغير ذلك من الشروط الفاسدة لا يفسدها، ويبطل الشرط كاشتراط الوضيعة على المضارب. ( کتاب المضاربۃ، ج:3، ص: 301، ناشر: دار احیاء الترث العربی )-
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0