میری بیوی مجھ سے کورٹ کے ذریعے خلع لے کر چائنیز لڑکے کے ساتھ شادی کرکے چائنا چلی گئی ہے۔ میرے دو چھوٹے بچے ہیں، بیٹی پانچ سال کی اور بیٹا چار سال کی عمر میں ہے۔ اب دونوں بچے نانا ، نانی کے پاس ہیں ۔ عرض یہ ہے کہ میرے سابقہ سسر کے گھر کا ماحول انتہائی خراب ہے۔ وہ ڈرائیور کے طور پر کام کرتا ہے۔ اور یوٹیوب پر انتہائی غلط اور بے حیائی والے کام میں مصروف ہے، جس کی تمام ویڈیوز یوٹیوب پر موجود ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے دونوں بچے مجھے واپس دیے جائیں، اس لئے شرعی فتوی کی بہت ضرورت ہے۔ جزاک اللہ
نوٹ: سائل عدالتی کارروائی میں حاضر ہوا تھا، اور اس نے جج کو بیان دیا تھا کہ میں اپنی بیوی کو ساتھ رکھنا چاہتا ہوں، اس کے باوجود عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کردی اور سائل کی بیوی کسی اور کے ساتھ نکاح کرکے رہ رہی ہے۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کی صحت کےلئے فریقین کا باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول کرنا شرط ہے۔ لہٰذا سائل کا بروئے عدالت خلع دینے سے انکار کے باوجود اگر سائل کی بیوی نے عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہو، جس پر سائل کے یا سائل کی جانب سے مقرر کردہ کسی وکیل نے دستخط بھی نہ کئے ہوں اور نہ زبانی اس پر رضامندی کا اظہار کیا ہو تو ایسی صورت میں اسبابِ فسخ نکاح کے موجود نہ ہوتے ہوئے اس یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود شرعاً میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ حسبِ سابق برقرار ہے۔ لہٰذا سائل کی بیوی کا اس یکطرفہ خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر چائنیز لڑکے کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہی ہے، اس پر لازم ہے کہ اس لڑکے سے علیحدگی حاصل کرکے سابق شوہر کے پاس لوٹ جائےاور اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ شوہر سے بھی معافی مانگےاور آئندہ اس قسم کے ناجائز و حرام کاموں سے مکمل اجتناب کرے۔جبکہ بچے کی عمر سات سال اور بچی کی عمر نو سال مکمل ہونے تک ان کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہوتا ہے۔ بشرطیکہ اس دوران وہ بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرلےیا وہ اپنے حق سے دستبردار نہ ہو جائے، اسی طرح اگر ماں فسق و فجور میں مبتلا ہو ، تب بھی اس کا حق ساقط ہوجاتا ہے۔ لیکن صورتِ مسؤلہ کے مطابق سائل کی بیوی کا اپنے اس حق سے دستبردار ہوکر فسق و فجور میں مبتلا ہونے سے ماں کا حقِ پرورش ختم ہوکر نانی کو حق حاصل ہوچکا ہے۔ اور بقول سائل کے کہ بچوں کے نانا اور نانی کی اخلاقی حالت اورگھرکا ماحول انتہائی خراب ہےاور ان کے پاس بچوں کو چھوڑنے میں چونکہ بچوں کے ضائع ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے، لہٰذا نانی کا حق بھی ختم ہوکر ان بچوں کی دادی کو پرورش کا حق حاصل ہوچکا ہے، چنانچہ سائل اپنے بچوں کو لے کر اپنی والدہ کے حوالے کرسکتا ہے۔
کما فی المبسوط للسرخسی: قال: و الخلع جائز عند السلطان و غیرہ؛ لأنہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود إلخ۔ ( باب الخلع، ج 6، ص 173، ط: السعادۃ ).
و فی الدر المختار: ( تثبت للأم ) ( إلی قولہ ) ( و لو ) ( إلی قولہ ) (بعد الفرقۃ إلا أن تکون مرتدۃ ) ( إلی قولہ ) ( أو فاجرۃ ) فجورا یضیع الولد بہ کزنا و غناء و سرقۃ و نیاحۃ إلی قولہ ) ( أو غیر مأمونۃ ) ذکرہ فی المجتبی بأن تخرج کل وقت و تترک الولد ضائعا ( إلی قولہ ) ( أو متزوجۃ بغیر محرم ) الصغیر ( إلی قولہ ) ( ثم ) أی بعد الأم بأن ماتت أو لم تقبل أو أسقطت حقھا أو تزوجت أجنبی ( أم الأم ) و إن علت عند عدم أھلیۃ القربی ( ثم أم الأب و إن علت ) بالشرط المذکور ( إلی قولہ ) ( و ) الحاضنۃ ( یسقط حقھا بنکاح غیر محرمۃ ) أی الصغیر ( و کذا بسکناہ عند المبغضین لہ؛ لما فی القنیۃ: لو تزوجت الأم بآخر فأمسکتہ أم الأم فی بیت الراب فلأب أخذہ ( إلی قولہ ) ( و الحاضنۃ ) أما أو غیرھا ( أحق بہ ) أی بالغلام حتی یستغنی عن النساء و قدر بسبع ( إلی قولہ ) ( و الأم و الجدۃ ) لأم أو لأب ( أحق بھا ) بالصغیرۃ ( حتی تحیض ) أی تبلغ إلخ۔ ( باب الحضانۃ، ج 3، ص 555۔566، ط: سعید )۔
و فیہ أیضاً: و إذا أسقطت الأم حقھا صارت کمیتۃ أو متزوجۃ فتنتقل للجدۃ بحر إلخ۔
و فی الشامیۃ: تحت ( قولہ و لا تقدر الحاضنۃ إلخ ) لکن قیدہ فی الظھیریۃ بأن لا یکون للصغیر ذو رحم محرم، فحینئذ تجبر الأم کی لا یضیع الولد؛ أما لو امتنعت الأم و کان لہ جدۃ رضیت بأمساکہ دفع إلیھا، لأن الحضانۃ کانت حقا للأم فصح إسقاطھا حقھا، و عزی ھذا التعلیل للفقھاء الثلاثۃ: و علؔلہ فی المحیط بأنھا لما أسقطت حقھا، بقی حق الولد، فصارت بمنزلۃ المیتۃ أو متزوجۃ فتکون الجدۃ أولی إلخ۔ ( باب الحضانۃ، ج 3، ص 559، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: أحق الناس بحضانۃ الصغیر حال قیام النکاح أو بعد الفرقۃ الأم إلا أن تکون مرتدۃ أو فاجرۃ غیر مأمونۃ کذا فی الکافی ( إلی قولہ ) و کذا لو کانت سارقۃ أو مغنیۃ أو نائحۃ فلا حق لھا ھکذا فی النھر الفائق ( إلی قولہ ) و إن لم یکن لہ أم تستحق الحضانۃ بأن کانت غیر أھل للحضانۃ أو متزوجۃ بغیر محرم أو ماتت فأم الأم أولی من کل واحدۃ و إن علت فإن لم یکن للأم أم فأم الأب أولی ممن سواھا و إن علت کذا فی فتح القدیر ( إلی قولہ ) و إنما یبطل حق الحضانۃ لھؤلاء النسوۃ بالتزوج إذا تزوجن بأجنبی ( إلی قولہ ) و لو تزوجت الأم بزوج آخر و تمسک صغیرۃ معھا أم الأم فی بیت الراب فلأب أن یاخذھا منھا ( إلی قولہ ) و الأم و الجدۃ أحق بالغلام حتی یستغنی و قدر بسبع سنین ( إلی قولہ ) و الأم و الجدۃ أحق بالجاریۃ حتی تحیض إلخ۔ ( الباب فی الحضانۃ، ج 1، ص 541، ط: ماجدیۃ )۔