کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج سے تین سال قبل میں اور میرے چچا سعودی میں مزدوری کرتے تھے ، اس دوران میرے چچانے اپنے ایک دوست حاجی ۔۔۔سے پچیس ہزار ریال بطور قرض لیئے تھے ، اور یہ کہا کہ میں آپ کو جلد از جلد یہ پیسے لو ٹا دونگا، اس دوران میرے چچا کو ایسے حالات پیش آئے جس کی وجہ سے وہ اپنا قرض ادانہ کر سکا، اب اس قرض کی ادائیگی میرے چچا کرنا چاہتے ہیں ، ہمارا سوال یہ کہ جب میرے چچانے اپنے دوست حاجی ۔۔۔صاحب سے پچیس ہزار ریال بطور قرض لئے تھے تو اس ریال کی قیمت پاکستانی کرنسی کے حساب سے 28 روپے چل رہی تھی ، اور اب ریال 42 روپے تک ہو گیا ہے ، اب ہم اس قرض کی ادائیگی 28 روپئے کے حساب سے کریں گے ، یا 42 روپئے کے حساب سے ؟ جواب دے کر مشکور و ممنون فرمائیں۔
سائل کے چچا نے حاجی نسیم سے بطور قرض تین سال قبل جتنے ریال لیئے تھے، اب اتنے ہی ریال اس کے ذمہ واپس کرنا لازم ہے، چاہے اس کی قیمت بڑی ہو، یاکم ہوگئی ہو۔
كما في الرد : تحت (قوله مطلب الديون تقضى بأمثالها (قوله بل وصف للذمة إلخ) ولهذا قيل إن الديون تقضى بأمثالها على معنى أن المقبوض مضمون على القابض لأن قبضه بنفسه على وجه التملك ولرب الدين على المدين مثله، فالتقى الدينان قصاصا وتمامه في البحر . اهـ (۸۴۸/۴) –
وفي القضايا : لو اقترض الرجل صاعاً من الحنطة، وقيمتها يومئذ خمس ربيات مثلاً، فلم يؤدهـا الى المقرض الا بعد ما صارت قيمتها ربيتين فحسب، فانه لا يرد الى المقرض الاصاعاً واحداً ، رغم ان مالية الصاع الواحد قد انتقضت من خمس ربيات الى ربيتين ، وهذا باجماع الفقهاء قديماً وحديثاً الخ (ج 1 / ص184)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1