کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے دوسرے کو دس ہزار ڈالر کاروبار کے لئے دیئے، 15 سال پہلے کاروبار مضاربت کی بنیاد پر طے ہوا، مضارب نے ڈالر کو افغانی کرنسی میں تبدیل کیا، جو اس وقت پانچ لاکھ افغانی بنے ، پندرہ سال یہ کاروبار چلتا ہے، اور نفع آپس میں تقسیم کرتےر ہیں ، اب رب المال کا تقاضا ہے کہ رأس المال واپس کر دو، جو دس ہزار ڈالر ہیں ، اور اگر افغانی کرنسی دینی ہو تو چونکہ ڈالر کی قیمت مہنگی ہو چکی ہے، اس لئے آج کی قیمت کے حساب سے آٹھ لاکھ افغانی دو گے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ مضارب اب وہی دس ہزار ڈالر واپس کرے گا یا موجودہ قیمت آٹھ لاکھ واپس کرے گا؟ شرعی راہ نمائی فرمائیں ؟ شکریہ
فریقین کے درمیان پندرہ سال مضاربت کی بنیاد پر جاری کاروبار کو اگر فریقین اب ختم کرنا چاہتے ہوں ،تو اب مضارب اپنے پاس مالِ تجارت میں سے جو کچھ موجود ہو، اس کو فروخت کر کے حاصل شدہ رقم میں سے سب سے پہلے رب المال کو اس کی دی گئی اصل رقم ( دس ہزار ڈالر ، یا آج کے حساب سے اس کی جو قیمت بنے گی) حوالے کر دے ، اور اس کے بعد بھی اگر کچھ رقم بچتی ہو تو وہ کاروبار کا منافع شمار ہو گا ،جو کہ دونوں ( مضارب اور رب المال) کے درمیان پہلے سے طے شدہ تناسب سے تقسیم ہو گا۔
كما في البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري: قوله (وينعزل بعزله إن علم) أي ينعزل المضارب بعزل رب المال إن علم به لأنه وكيل وإن لم يعلم لا والمراد بالعلم ما يستفاد من خبر رجلين مطلقا أو واحد عدل إن كان فضوليا وإلا فخبر مميز قوله (وإن علم والمال عروض باعها ثم لا يتصرف في ثمنها ولا يملك المالك فسخها في هذه الحالة) لأن للمضارب حقا في الربح قيد بالمضاربة لأن أحد الشريكين إذا فسخ الشركة ومالها أمتعة قالوا يصح فسخه بخلاف المضاربة كذا في فتاوى قاضي خان من الشركة والمراد من العرض هنا أن يكون خلاف جنس رأس المال والدراهم والدنانير جنسان هنا فإذا كان رأس المال دراهم وعزله ومعه دنانير له بيعها بالدراهم استحسانا وله بيع العروض بعد العزل بالنقد والنسيئة وإن نهاه رب المال عن النسيئة كما لا يصح نهيه عن المسافرة في الروايات المشهورة وكما لا يملك عزله لا يملك تخصيص الإذن لأنه عزل من وجه كذا في النهاية وشمل كلامه العزل الحكمي حتى لو كان له بيع العروض بعد موت رب المال حقيقة أو حكما ولا ينعزل في الحكمي إلا بالعلم بخلاف الوكيل حيث ينعزل في الحكمي وإن لم يعلم لأنه حق له بخلاف المضارب اھ (7/ 268)۔
وفى الفتاوى الهندية: فإن عزل رب المال المضارب ولم يعلم بعزله حتى اشترى وباع فتصرفه جائز وينعزل بعلمه بعزله وإن علم بعزله والمال عروض فله أن يبيعها ولا يمنعه العزل عن ذلك ثم لا يجوز أن يشتري بثمنها شيئا آخر ولو كان مال المضاربة من جنس رأس المال لم يجز له أن يتصرف فيه وإن لم يكن من جنس رأس المال بأن كان دراهم ورأس المال دنانير أو بالعكس له أن يبيعها بجنس رأس المال استحسانا اھ (4/ 329)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): [فرع] قال في القنية من المضاربة أعطاه دنانير مضاربة ثم أراد القسمة له أن يستو في دنانير، وله أن يأخذ من المال بقيمتها، وتعتبر قيمتها يوم القسمة لا يوم الدفع ا. هـ. (5/ 655) والله اعلم بالصواب
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0