اج سے کچھ وقت پہلے میری والد سے کسی بات پر نااتفاقی ہو گئی، وہ ناراض ہو گئے اور بہت بددعائیں دینے لگے، میں نے بہت کوشش کی کہ خاموش رہوں اور کچھ نہ بولوں، لیکن وہ بار بار مجھے بددعائیں دیتے رہے اور مجھ سے بھی کچھ سخت الفاظ نکل گئے، میں نے کئی بار کوشش کی کہ جواب نہ دوں، مگر وہ بار بار میرے پاس آتے رہے کبھی مارنے کے لیے، کبھی کچھ کھلانے کے لیے،بہرحال، اُنہوں نے بہت برا بھلا کہا، لیکن اگلے دن بات ٹھیک ہو گئی، میں نے اپنی غلطی پر معافی نہیں مانگی، لیکن اپنے عمل سے اُنہیں خوش کرنے کی بہت کوشش کی اور ہر بات پر صبر کیا ، تاکہ دوبارہ کوئی ایسا معاملہ نہ ہو،کیا میرا ایسا کرنا کافی ہے یا معافی مانگنی چاہیے؟ میں چاہتا تو ہوں، لیکن اُن سے اس بارے میں دوبارہ بات کرنے کی ہمت نہیں کر پاتا، والد کی بددعاؤں کے بعد کام میں مجھے بہت نقصان ہوا اور میں بری طرح پھنس گیا ہوں،آپ سے درخواست ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں میری اصلاح فرمائیں، والد دل کے اچھے ہیں، لیکن کوئی بات ناپسند ہو تو بہت غصہ کرتے ہیں اور بددعائیں دیتے ہیں، میں اس بارے میں دوبارہ بات کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کا والد کو صرف عملاً خوش کرنا کافی نہیں، بلکہ اسے چاہیے کہ زبان سے بھی اپنے والد سے معافی مانگے اور آئندہ ان کے ساتھ سخت رویہ اپنانے سے مکمل اجتناب کرے، ورنہ گنہگار ہوگا اور یہ عمل اللہ کی ناراضگی کا بھی سبب ہے، تاہم والد کا بھی اولاد کو بات بات پر بددعائیں دینا اور انہیں بےجا کوسنا انتہائی نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، جس سے انہیں بھی بہرصورت احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاهُمَا فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلاً كَرِيماً () وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنْ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيراً () رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِنْ تَكُونُوا صَالِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلأَوَّابِينَ غَفُوراً." (الأسراء: ٢٣ – ٢٥)
و فی سنن الترمذی: عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ ثلث دعوات مستجابات لاشک فیھن دعوۃالوالد ودعوۃالمسافر ودعوۃ المظلوم (ج1/195)۔
و فی سنن ابن ماجه: عن أبي أمامة، أن رجلا قال: يا رسول الله، ما حق الوالدين على ولدهما؟ قال: هما جنتك ونارك، (كتاب الأدب، باب برالوالدين، ٢/ ١٢٠٨، ط: دارإحياء الكتب العربية)-