کیا دیوبند کے فاضل عالم کے لئے یہ اجازت ہے کہ وہ فائنانس (تمویل) میں ڈگری حاصل کرے ، اس نیت سے کہ وہ فائنانس کی گہرائی کو سمجھنے کے بعد مسلمانوں کو اس کی قباحت اور برائی سے بچائےگا اگر کوئی فائنانس پڑھتا ہے تو اس کو سودی معاملات کا مطالعہ کرنا لکھنا اور سودی حساب کو سمجھنا پڑتا ہے، لیکن وہ اس میں حصہ نہیں لیتا اور نہ ہی سود کی گواہی دیتا ہے، میں نےمفتی تقی عثمانی صاحب کے رسالہ البلاغ میں پڑھا ہے کہ جب تک تم اس میں ملوث نہ ہو جاؤ اس وقت لکھنااور پڑھنا جائز ہے، آپ کا تفصیلی جواب میرے لئے مفید ہوگا، یہ ڈگری میں اس لئے کرنا چاہتا ہوں، کہ آج کل کے بہت سارے مسلمان اس میں ملوث ہیں جن میں سے بعض کا طریقہ صحیح ہے اور بعض بالکل غلط راستے پر ہیں، صحیح رہنمائی کی سخت ضرورت ہے اور فائنانس اور سودی معاملات کا صحیح سمجھ کے بغیر نہ رہنمائی ممکن نہیں، مسلمانوں کی موجوہ غلطیاں اور مستقبل کا حل اس کورس کے بغیر بہت مشکل ہوگا۔
سود کی حقیقت اور اس کی قباحتوں سے آگاہ کرنے اور اس سے بچانے کی غرض سے مذکور کورس کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، تاہم سودی لین دین اور اس میں ملوث ہونے سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ( سورۃ البقرۃ ایۃ 275)۔
و فی الدرالمختار: واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ما يحتاج لدينه. وفرض كفاية، وهو ما زاد عليه لنفع غيره. ومندوبا، وهو التبحر في الفقه وعلم القلب. الخ (1/42)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1