السلام علیکم
ہم بینک میں اکاؤنٹ فکس کرتے ہیں اور ہمیں انعام کے طور پر سود ملتا ہے اور ہم اس رقم سے غریب گھرانوں کی مدد کرتے ہیں اور اس رقم میں سے ایک روپیہ بھی اپنے اوپر خرچ نہیں کرتے ہیں ،کیا یہ جائز ہے ؟
واضح ہو کہ نہ تو غربت کا یہ مقصد ہے کہ وہ حرام مال کھائے گا اور نہ انہیں دینے کی غرض سے سودی اکاؤنٹ کھلوانا جائز ہے، اس لیے سائل پر لازم ہے کہ وہ ایسے اکاؤنٹ بند کروا کر محض کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھے یا کسی اسلامی بینک میں اکاؤنٹ کھلوائے۔
قال الله تعالى : {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]
و في تفسير الألوسي = روح المعاني: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبا أي يأخذونه فيعم سائر أنواع الانتفاع والتعبير عنه بالأكل لأنه معظم ما قصد به اھ (2/ 47)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): رجل دفع إلى فقير من المال الحرام شيئا يرجو به الثواب يكفر، (إلی قوله) مثله فيما يظهر لو بنى من الحرام بعينه مسجدا ونحوه مما يرجو به التقرب؛ لأن العلة رجاء الثواب فيما فيه العقاب ولا يكون ذلك إلا باعتقاد حله اھ (2/ 292) والله اعلم بالصواب
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1