کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ مارچ 2007ء میں دو آدمیوں نے پارٹنر شپ پر کرنسی کا کام شروع کیا، اس شرط کے ساتھ کہ نفع و نقصان دونوں میں برابر کے شریک ہوں گے ، اور فی کس مبلغ چھ ہزار (6000) روپے تنخواہ طے پائی۔
2009ء کو ایک پارٹنر کاروڈ ایکسیڈنٹ ہوا، جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی فوت ہو گیا، اس کے فوراً بعد پارٹنر نے اپنی تنخواہ چھ ہزار سے یکدم تین ہزار روپے فوت شدہ پارٹنر کے ورثاء کی اجازت کے بغیر مقرر کر دی۔
جو ر قم انہوں نے کاروبار میں لگائی تھی ، مرحوم کے فوت ہونے کے بعد وہی رقم چل رہی ہے ، لیکن موجودہ پار ٹنر کہتا ہے کہ میں نے پارٹنر شپ ختم کر دی ہے ، حالانکہ زبانی طور پر اس نے کسی وارث کو اطلاع نہیں دی ہے ، پارٹنر شپ کا بھی 2014 ء سے انکار کر رہا ہے ،اور نہ ہی حساب کر کے رقم واپس کر رہا ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ شرعی طور پر کب تک مرحوم کا حق بنتا ہے ، اور یہ کہ مرحوم کے ورثاء کو اطلاع دینے کے بغیر پارٹنر شپ کو ختم کر نا درست ہے، از راہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
نوٹ: دونوں پارٹنرز نے کاروبار شروع کرتے وقت برابر سرابر مال اور روپے دیے تھے ، جبکہ 2009ء میں ایک شریک کے انتقال کے بعد موجودہ شریک اور مرحوم شریک کے ورثاء کے مابین کوئی تجدیدِ عقد نہیں ہوا۔
مذکور دونوں پارٹیوں نے ، 2007 ء میں آپس میں جو کاروبار نفع و نقصان میں برابری کی شرط کے ساتھ شروع کیا تھا ، وہ درست منعقد ہوا تھا ، نیز ہر ایک کے لئے اپنی ضروریات کی مد میں ماہانہ مبلغ چھ ہزار روپے طے کر کے وصول کرنا بھی درست تھا ، لیکن اس کے بعد 2009ء میں ایک پاٹنر کی وفات سے ان کے مابین خود بخود مذکور شراکت ختم ہو چکی تھی ، اگر چہ موجود پاٹنر نے وارثوں کو اس کی طرف سے شرکت ختم کرنے کی اطلاع نہیں دی تھی، اس لئے اس وقت موجودہ پارٹنر کو چاہیئے تھا کہ مرحوم پارٹنر کے وارثوں کو بلا کر ان کو مرحوم کے حصے کا اصل سرمایہ اور نفع واپس کرتے ،اور وارثوں سے تجدیدِ عقدِ شراکت کے بغیر شریک کے حصہ کی رقم کو دوبارہ کاروبار میں نہ لگاتے ، تاہم جب موجود شریک نے ایسا نہیں کیا، بلکہ مرحوم پارٹنر کی وفات کے بعد بھی اس کا سرمایہ اور نفع کی رقم کاروبار میں لگائے رکھا ، اور اس سے کاروبار میں مزید اضافہ ہوا، تو ایسی صورت میں مرحوم پارٹنر کی رقم سے جتنا نفع ہوا، موجو دہ پارٹنر کے لئے ملک خبیث ہونے کی وجہ اس کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، بلکہ اس پر لازم ہے کہ شریک کی وفات کے بعد سے کاروبار میں جتنا نفع یا نقصان ہوا ہے ، اس کا مکمل حساب کرے، اور مرحوم کے حصہ کا جتنا منافع حاصل ہوا ہے ، وہ اصل سرمایہ سمیت اس کے وارثوں کو لوٹا کر دنیاو آخرت کے مواخذہ سے سبکدوشی حاصل کرے، بصورتِ دیگر مرحوم پارٹنر کے ورثاء اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے بھی مجاز ہیں۔
كما في الفتاوى الهندية: أما تفسيرها فهي أن يشترك الرجلان فيتساويان في مالهما وتصرفهما ودينهما ويكون كل واحد منهما كفيلا عن الآخر في كل ما يلزمه من عهد ما يشتريه كما أنه وكيل عنه كذا في فتح القدير فتجوز بين الحرين الكبيرين مسلمين أو ذميين كذا في الهداية اھ (2/ 307)۔
وفى الدر المختار : (وتبطل الشركة) أي شركة العقد (بموت أحدهما) علم الآخر أو لا لأنه عزل حكمي اھ (4/ 327)۔
و في جامع الفصولين: غاب أحد شريكي الدار فأراد الحاضر أن يسكنها رجلاً أو يؤجرها لا ينبغي أن يفعل ذلك ديانة إذ التصرف فيما بيده لو لم ينازعه أحد فلو آجر وأخذ الأجر يرد على شريكه نصيبه لو قدر وإلا تصدق به لتمكن الخبث فيه بحق شريكه فصار كغاصب آجر يتصدق الأجر أو يرده على المالك وأما نصيبه فيطيب له إذ لا خبث فيه اھ (2/ 145)۔
و في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (سئل) فيما إذا مات أحد شريكي العنان وعمل الشريك الآخر في مال الشركة وربح فهل تنفسخ الشركة بموته ويتصدق بربح حصة مال الميت؟ (الجواب) : نعم تنفسخ الشركة بموته والعامل بعده كالغاصب فما ربح من حصة نفسه يطيب له وما ربح من حصة الميت يتصدق به كما في الأنقروي عن النوازل. (1/ 92)۔
و في حاشية السعدى على العناية بهامش تكملة فتح القدير : اقول في هذا الجواب تأمل فانه ظاهر ان النصيب الشائع غير خارج عن الكل بل داخل فيه فاذا حمل الكل کان هو محمولا معه و يكون كاجارة المشاع فان اللازم هنا أيضا تعذر التسليم على الوجه الذي يقتضيه العقد فينبغي أن يحكم بأجر المثل اھ (۸/57)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0