میں ایک کمپنی میں ملازم ہوں مجھے ایک دن ایک دوست نے کہا کہ میرا ایک دوست غریب ہے وہ اپنی بھانجی کی شادی پر اسے فرنیچر دینا چاہتا ہے آپ اسے تھوڑی رعایت پر فرنیچر دلوادیں، میں نےکہا صحیح ہے پھر انہوں نے مارکیٹ میں فرنیچر کاریٹ معلوم کیا جو کہ 25000 روپے تھا، تو انہوں نے بولا کہ آپ ہمیں 25000 روپے دیدیں ہم ماہانہ 1500 سو روپے قسط کر کے آپ کو35000 روپے ادا کریں گے، میں نے انہیں اپنا ATM کارڈ دے دیا اور اپنے دوست کو پن کوڈ بھی بتادیا اور اس کو تاکید کردی کہ اس رقم سے فرنیچر ضرور خریدنا ، براہ مہربانی میری رہنمائی فرامائیں کہ یہ دس ہزار روپے زائد لینا سود ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ صورت مسئولہ میں مذکور 25000 روپے قرض دے کر 35000 روپے وصول کرنا بلاشبہ سود اور ربا کے حکم میں ہے جس کی وجہ سے اس زائد رقم کا لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، لہذا سائل پر لازم ہے کہ وہ صرف اصل رقم ہی وصول کرلے ، اس سے زائد وصول نہ کرےالاّ یہ کہ فرنیچر خریدنے کے بعد سائل کے وکیل نے قبضہ میں لے کر 35000 ہزار قسطوار میں متعلقہ لوگوں پر فروخت کردیا ہو، تو اس صورت میں زائد رقم لینے کی شرعاً بھی گنجائش ہوگی۔
کما قال اللہ تعالی: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (سورۃ البقرۃ الآیۃ 275)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به الخ (5/166)۔
و فی الدرالمختار: له ألف من ثمن مبيع فقال: أعط كل شهر مائة فليس بتأجيل بزازية. الخ (4/533)۔
و فی البحر الرائق: ولا يجوز قرض جر نفعا بأن أقرضه دراهم مكسرة بشرط رد صحيحة أو أقرضه طعاما في مكان بشرط رده في مكان آخر فإن قضاه أجود بلا شرط جاز، الخ (6/133)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1