گاڑیوں کی بلٹی خریدنے کا کام کیسا ہے؟ جس میں ہوتا یہ ہے کہ کوئی گاڑی والا کسی کمپنی یا کسی ٹرانسپورٹ کے اڈے سے مال بھرتا ہے، اور وہ گاڑی والے کو کرایہ کا ایک پرچہ بنا کر دیتے ہیں کہ کل یا پرسوں اس کے پیسے لے جانا، اس کی وجہ سے گاڑی والے کا وقت برباد ہوتا ہے تو اسلیے وہ گاڑی والا اپنا کرایہ کا پرچہ جسے بلٹی کہتے ہیں، بیچتا ہے، بالفرض اگر کرایہ 10000 ہے تو وہ ا س کو 9500 روپے لے کر اپنا وقت بچاتا ہے، کیا یہ کام کرنا ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں؟ مستفتی: محمد اسلم
سوال میں مذکور طریقہ سے بلٹی فروخت کرنا اور کچھ رقم دیکر اپنا وقت بچانے کا مذکور طریقہ کار تو درست نہیں، البتہ اس معاملے کو درست اور جائز طریقے سے انجام دینے کے لیے یہ صورت اختیار کی جائے کہ اس معاملے میں بنیادی طور پر دو عقد کر لیئے جائیں، ایک یہ کہ ٹرک کا مالک یاگاڑی کا ڈرائیور اپنی رسید یا واؤچر کی رقم وصول کرنے کے لیے کسی بروکر کو اپنا وکیل بنائے، اس طور پر کہ فلاں تاریخ ، فلاں دن اور فلاں شخص سے ہماری اتنی رقم مثلاً (10000) دس ہزار وصول کر لینا ، پھر جتنی رقم اس بل سے کاٹنی ہو وہ رقم بھی باہمی رضامندی سے باہم اجرت کے طور پر طے کرلیں، کہ اتنی رقم مثلاً 500 روپے آپ کو اجرت دوں گا، اس کے بعد گاڑی کا مالک یا ڈرائیور اس بروکر سے کہے کہ آپ مجھے 9500 روپے قرض دیدیں، اور مقررہ تاریخ پر جب آپ بل وصول کریں تو میں نے ابھی آپ سے جو قرض مثلاً 9500 روپے لیئے ہیں، یہ اسی بل یعنی 10000 روپے سے وصول کرلینا اور باقی 500 روپے آپ کے آنے جانے اور محنت وغیرہ کے طے شدہ مزدوری ہے اس لیئے وہ بقیہ 500 روپے میں آپ کو اجرت مقررہ کے طور پر چھوڑتا ہوں۔
کما فی الشامیة: [مطلب في بيع الجامكية] (قوله: وأفتى المصنف إلخ) تأييد لكلام النهر، وعبارة المصنف في فتاواه سئل عن بيع الجامكية: وهو أن يكون لرجل جامكية في بيت المال ويحتاج إلى دراهم معجلة قبل أن تخرج الجامكية( الی قولہ) أجاب إذا باع الدين من غير من هو عليه كما ذكر لا يصح الخ (4/ 517)۔
و فی الھندیة: یسلم الوکیل المبیع الثمن ویطالب بالثمن اذا اشتری الخ (3/179)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1