کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مسلمان کا کافر حربی سے سودی قرض لے کر یا عقدِ فاسد کر کے زیادتی یا سود طے کے تھوڑا دے اور زیادہ فائدہ اگر مسلمان کو ہو رہا ہو تو کیا اس قسم کا معاملہ مسلم کافر حربی سے جائز ہے؟ یعنی عقد فاسد کے ذریعے اگر مسلمان کو مال حربی کافر سے ملے تو مال حربی کافر کا مسلمان کے لئے جائز ہے؟لینے کا معاملہ تو سمجھ میں آتاہے ہے مگر سودی قرض میں مسلمان اپنا مالِ معصوم کافر حربی کو دے رہاہے، اس کی سمجھ نہیں آتی، یہاں تو معاملہ دینے کا ہے لینے کا نہیں، اس کی وضاحت فرمائیں۔
نوٹ: امریکہ یورپ وغیرہ میں مکان ، کار، کاروباروغیرہ جوکہ شخصی ضروریات ہیں، یہ بغیر سودی قرض لیے ہو تو سکتا ہے، لیکن قدرے مشکل ہے ناممکن نہیں ، البتہ دینی اجتماعی ضروریات جیسا کہ مسجد ومدرسہ اور بچوں کے لئے اسلامی اسکول کے قیام کے لئے چندہ اکٹھا کرنا، اور پھر نقد پر لینا بہت ہی مشکل ، قریب ناممکن ہے، یہاں اکثر کافروں کے اسکول ہیں یا پھر بد مذہب نجدی مودودی وغیرہ کے اسکول جو کہ سعودی گورمنٹ کی مدد سے بنے ہیں، ایسے وقت میں کیا کیا جائے؟ براہِ کرم تسلی بخش جواب مرحمت فرما کر عنایت فرمائیں۔
واضح ہوکہ جس طرح کسی مسلمان کے ساتھ سودی معاملہ کرنا یا سود کی رقم لیکر اپنے استعمال میں لانا شرعاً ناجائز وحرام ہے، اسی طرح مفتیٰ بہ قول کے موافق دارالکفر اور دارالحرب میں کسی کافر یا حربی کے ساتھ سودی معاملہ کرنے کا حکم ہے، اس لئے مغربی اور یورپی ممالک میں رہائش پذیر مسلمانوں کو کسی کافر اور حربی کے ساتھ سودی معاملہ کرنا جائزنہیں، خواہ سودی رقم کوئی کافر اور حربی کھائے یا کوئی اور, مذکور طرز عمل سے بہر حال احتراز لازم ہے، البتہ دیگر معاملات میں کسی کافر سے اس کی مرضی کے ساتھ نفع حاصل کرلینا اور اس کا مال لینا جائز ہے، اسی طرح کسی ملک یا حکومت کے تعاون کے بغیر بھی ان ممالک میں بعض رفاہی ادارے ایسے تعمیر کیے جا رہے ہیں، اور بعض تعمیر بھی ہوچکے ہیں، جو دینی مسلکی اور اجتماعی خدمات بخوبی انجام دے رہے ہیں ، اسی طرح کئی ایک مسلمان ایسے موجود ہیں جنہوں نے ان ممالک میں بھی نہ صرف اپنے ذاتی گھر اور بنگلے بنائے ہیں بلکہ بڑے بڑے کاروباری مراکز بھی قائم کر چکے ہیں اس لئے مذہب وملت کی ضرورت کے لئے بھی اس قسم کے ناجائز اور حرامِ شرعی معاملات بجالانے یا ان ممالک میں ایسے معالات کو جائز سمجھنے سے بھی احتراز لازم ہے، اور اسی کے موافق عمل کی ضرورت ہے۔
قال اللہ تعالی: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (سورۃ البقرۃ آیة 275)۔
وفی رد المحتار: أقول: وعلى هذا فلا يحل أخذ ماله بعقد فاسد، بخلاف المسلم المستأمن في دار الحرب، فإن له أخذ مالهم برضاهم، ولو بربا أو قمار لأن مالهم مباح لنا إلا أن الغدر حرام، وما أخذ برضاهم ليس غدرا من المستأمن الخ (4/169)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1