جناب عالی کی خدمت میں ایک لفافہ آپ جناب کے نام ارسال خدمت ہے، اس میں ایک جیسے تین فتوے مع جوابات ہیں، ایک فتوی اور جواب آپ جناب کے دارالافتاء کا ہے، دو جوابات دارالعلوم کورنگی اور علامہ بنوری ٹاون کے ہیں، تقریبا تینوں جوابات ایک جیسے ہیں، اب آپ جناب عالی سے درخواست ہے، کہ مفتیان عظام سے مشورہ کر کے مجھے مالی نقصانات کی تلافی کی کوئی شرعی راستے کی طرف رہنمائی فرمائیں۔
جب سائل مذکور رقم بطور قرض دے چکا ہے تو ا س کے بعد اس رقم پر کسی قسم کا نفع وصول کرنا (خواہ بصورت نقدی ہو یا بصورت دیگر اشیاء وغیرہ اس کا لینا) شرعاً ناجائز اور سود کے حکم میں ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
پھر جب یہ قرض دینا بلاشبہ ایک نیکی ، تبرع اور احسان والا معاملہ ہے جس پر حصول اجر میں کوئی شبہ بھی نہیں تو یہ بھی نفع ہی ہے، مگر یہ اخروی معاملہ ہے کہ اس کی اہمیت وقد ر وقیمت بعد میں ہی معلوم ہوسکتی ہے، اس لئے اس پر دنیاوی اجر کا مطالبہ کر کے اخروی اجر وثواپ کو ضائع نہ کیا جائے، البتہ اگر آئندہ کسی کو قرض دینا ہو اور متوقع نقصان سے بچنے کا بھی ارادہ ہو تو قرض خواہ کو ضرورت کی چیز خرید کر اس پر مناسب نفع لگا کر قسطوں میں فروخت کردیاجائے، تو اس کی گنجائش ہے۔
کما فی الھندیة: قال: "ومن اشترى غلاما بألف درهم نسيئة فباعه بربح مائة ولم يبين فعلم المشتري، فإن شاء رده، وإن شاء قبل"؛ لأن للأجل شبها بالمبيع؛ ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل، الخ (3/58)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1