السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 20 سال قبل، میں نے اپنے ایک رشتہ دار کو 50,000 امریکی ڈالر بھیجے، تاکہ وہ میرے لیے سرمایہ کاری کرے۔ اُس نے دبئی میں ایک اپارٹمنٹ قسطوں پر خریدا، جس میں اُس نے بھی اپنی رقم شامل کی، اور ہم دونوں اس اپارٹمنٹ میں شریک بن گئے۔ مجھے اپارٹمنٹ کی خریداری کے بعد بتایا گیا کہ یہ قسطوں پر خریدا گیا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ: میرے رشتہ دار کا کہنا ہے کہ چونکہ اپارٹمنٹ کی قیمت قسطوں کی صورت میں 200,000 ڈالر ادا کی گئی ہے، تو میرے حصے کا حساب اس اعتبار سے ہوگا یعنی 50,000 ÷ 200,000 = 25%
جبکہ میرا مؤقف یہ ہے کہ میں نے رقم نقد (Cash) دی تھی، اس لیے میرے حصے کا حساب نقد قیمت کے اعتبار سے ہونا چاہیے۔ مثلاً اگر اپارٹمنٹ کی نقد قیمت 150,000 ڈالر تھی تو میرا حصہ 50,000 ÷ 150,000 = 33% بنتا ہے۔
(یہ تمام اعداد و شمار صرف وضاحت کے لیے فرض کیے گئے ہیں)
اب سوال یہ ہے کہ شریعت کی روشنی میں اس اپارٹمنٹ میں حصے کی منصفانہ تقسیم کیا ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنے اور اپنے رشتہ دار کے درمیان ہونے والے معاہدے کی مکمل تفصیلات ذکر نہیں کی ہے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیاجائے ۔ تاہم سائل نے جب اپنے رشتہ دار کو کاروبار کے لیے رقم دیتے وقت حاصل ہونے والے منافع کی کوئی شرح متعین نہیں کی تھی تو اس صورت میں سائل اور اس کے رشتہ دار کے درمیان ہونے والا معاہدۂ شرکت درست نہیں ہوا ہے ، اس لیے کہ کسی بھی کاروبار میں سرمایہ لگاتے ہوئے نفع کی شرح متعین کرنا لازم ہے ۔ جبکہ عقدِ فاسد کا حکم یہ ہےکہ اس میں نفع کی تقسیم ہر ایک شریک کے سرمایہ کے حصص کے اعتبار سے ہوتی ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کے رشتہ دار کے درمیان حاصل ہونے والے منافع کی تقسیم ان کے سرمایہ کے حصص کے اعتبار سے ہوگی ، چونکہ سائل کا سرمایہ کل سرمایہ کے٪ 25فیصد ہے اس لیے سائل کو بھی نفع میں٪ 25 کا مطالبہ کرنا چاہیے ۔
کما فی حاشیۃ ابن عابدین: فما كان من ربح فهو بينهما على قدر رءوس أموالهما، وما كان من وضيعة أو تبعة فكذلك اھ ( کتاب الشرکۃ، ج:4، ص: 305، ناشر: سعید)-
و فی الھندیۃ: ثم يقول فما كان من ربح فهو بينهما على قدر رءوس أموالهما وما كان من وضيعة أو تبعية فكذلك اھ ( کتاب الشرکۃ، ج:2، ص: 320، ناشر: المطبعۃ الأنصاری دھلی )-
و فی فتح القدیر: ثم يقول: فما كان من ربح فهو بينهما على قدر رءوس أموالهما، وما كان من وضيعة أو تبعة فكذلك، ولا خلاف أن اشتراط الوضيعة بخلاف قدر رأس المال باطل، واشتراط الربح متفاوتا عندنا صحيح فيما سيذكر اھ ( کتاب الشرکۃ، ج:6، ص: 155، ناشر: دار الفکر )-
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0