اگر دو شخص کاروبار کرنا چاہیں، ایک کے پاس 4 لاکھ روپے ہیں، جبکہ دوسرے کے پاس 2/3 دو یا تین لاکھ روپئے ہیں تو کیا شراکت جائز ہوگی؟
کاروبار میں شرکت کے لیے درج ذیل بنیادی شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
(۱) کسی شریک کیلئے متعین رقم کی شکل میں منافع طے کرنا شرعاًجائز نہیں ہے، بلکہ باہمی رضامندی سے کسی بھی فیصدی تناسب سےمنافع طے کرنا ضروری ہے، البتہ اتنا لحاظ رکھنا لازم ہے کہ جو شخص صرف رقم سے شریک ہو ”عمل“ اس کے ذمے نہ ہو یعنی سلیپنگ پارٹنرہوتو اس کے منافع سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نفع متعین کرنا درست نہیں ہے۔
(۲) بوقتِ عقد دونوں کا سرمایہ معلوم ہو، اور نقد کی شکل میں ہو ۔
(۳) اگر کبھی خسارہ ہوجائے تو تمام شرکاء کو بقدر ِسرمایہ برداشت کرنا ہوگا، خسارہ کو ایک پر ڈالنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کے شریک کے درمیان مذکورہ بالا شرائط کو ملحوظ رکھتےہوئےکاروباری شراکت قائم کرنا جائز اور درست ہے۔
کمافی البدائع: (ومنها) : أن يكون الربح معلوم القدر، (إلی قولہ) (ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ (إلی قولہ) (أما) الشركة بالأموال فلها شروط: (منها) أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة وهي التي لا تتعين بالتعيين،(إلی قولہ) (ومنها) : أن يكون رأس مال الشركة عينا حاضرا لا دينا، ولا مالا غائبا،الخ (کتاب الشرکۃ، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج 6، ص 59-60، ط: ایچ ایم سعید)-
وفیہ ایضاً: (وأما) شركة العنان فلا يراعى لها شرائط المفاوضة، (إلی قولہ) فيجوز مع تفاضل الشريكين في رأس المال ومع أن يكون لأحدهما مال آخر يجوز عقد الشركة عليه سوى رأس ماله الذي شاركه صاحبه فيه، (إلی قولہ) إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال، وإن كان المالان متساويين فشرطا لأحدهما فضلا على ربح ينظر إن شرطا العمل عليهما جميعا جاز، والربح بينهما على الشرط في قول أصحابنا الثلاثة،الخ (کتاب الشرکۃ، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج 6، ص 62، ط: ایچ ایم سعید)-
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0