السلام علیکم! میرے بچوں کا پروگرام عمرہ کرنے کا ہو رہا ہے، اور وہ مجھے بھی ساتھ لے جانا چاہتے ہیں،میں نے بہت کوشش کی کہ میں انکو قائل کروں ،مگر وہ بضد ہیں کہ میں اس بارے میں فتوی لوں کہ شریعت کی رو سے یہ نفلی عمرہ کر سکتا ہوں کہ نہیں؟ یہاں میں اپنی حالت بیان کرنا چاہتا ہوں ، تاکہ مفتی صاحب فتوی جاری کردیں۔
میں پروسٹیٹ کے کینسر کا مریض ہوں،جسکی وجہ سے میرا پیشاب اور پاخانہ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، اور گیس کے اخراج پر بھی کوئی کنٹرول نہیں ہے، میں ہر وقت ڈائپر انڈروئر پہنے ہوئے رہتا ہوں،اور تھوڑی تھوڑی دیر سے بدل دیتا ہوں، چونکہ پیشاب مستقل لیک ہوتا رہتا ہے ، گیس اور خون پاخانہ کے ساتھ خارج بھی دن میں کئی بار ہوتا ہے، اس صورت میں عمرہ کی اجازت ہے یا نہیں؟ دوسری طرف مسجد میں جانے کے لئے بھی بتا دیں کہ کیا حکم ہے؟ میں گھر میں ہی نماز ادا کرتا ہوں۔جواب اگر جلد مل جائے ،تو بڑی مہربانی ہوگی۔
واضح ہو کہ طواف کے علاوہ عمرے کےبقیہ افعال کی ادائیگی ،اور احرام کی حالت میں مسلسل با وضو رہنا شرعاً لازم اور ضروری نہیں ، تاہم طواف ِعمرہ کے لئے باوضو رہنا ضروری ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کو اگر مذکور بیماری اس تسلسل سے ہوکہ اس کی وجہ سے پاکی کا اتنا وقت بھی نہ ملتا ہو کہ وضو کرنے کے فوراً بعد صرف فرض نماز ادا کرسکے، اور پوری ایک نماز کا وقت اسی طرح گزرجائے،توایسی صورت میں سائل شرعاً معذور شمار ہوگا،اور معذور کے لئے شرعاً حکم یہ ہےکہ ہر فرض نمازکا وقت داخل ہونے پروضوکرلیا کرے،اور اس وضو سے وقت کے اندر جتنی نمازیں اور طواف وغیرہ کرنا چاہے، کرسکتا ہے،اس دوران اس عذر کے پائے جانیکی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹے گا،البتہ اگلی نماز کا وقت داخل ہونے پر نیا وضوکرنا لازم ہوگا،چنانچہ سائل بھی وقت داخل ہونے پر وضوکرلینےکے بعداس وضوسے طواف وغیرہ کرسکتا ہے۔
جبکہ عام حالات میں جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ قریب بواجب ہے،البتہ اگرسائل کو مذکور بیماری کی شدت اتنی زیادہ ہوکہ جس میں ناپاکی سے مسجد کی تلویث کا اندیشہ ہو،یا نمازیوں کو کسی قسم کی تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو توایسی صورت میں سائل کے لئے گھر میں نماز پڑھنا ہی بہتر ہے۔
کمافي عمدة القاري شرح صحيح البخاري:ومما يستنبط منه جواز اعتكاف المستحاضة، وجواز صلاتها لأن حالها حال الطاهرات، وأنها تضع الطست لئلا يصيب ثوبها أو المسجد وأن دم الاستحاضة رقيق ليس كدم الحيض، ويلحق بالمستحاضة ما في معناها كمن به سلس البول والمذي والودي، ومن به جرح يسيل في جواز الاعتكاف الخ، ومما يستنبط منه جواز الحدث في المسجد بشرط عدم التلويث اھ(باب الاعتكاف للمستحاضة،3/ 280)۔
وفی غنية الناسك:ولو خرج من الطواف الخ إلی تجدید وضوء ثم عاد بنی لو کان ذلك بعد إتیان أکثره،الخ،ویستحب الاستیناف في الطواف إذا کان ذلك قبل إتیان أکثره الخ،وصاحب العذر الدائم إذا طاف أربعة أشواط ثم خرج الوقت توضأ وبنی ولا شیٴ علیه، وکذا إذا طاف أقل منها إلا أن الإعادة حینئذ أفضل( قبیل باب السعي بین الصفا والمروة،ص:128)۔
وفی الدر المختار:(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمناً يتوضأ ويصلي فيه خالياً عن الحدث (ولو حكماً)؛ لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرةً (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقةً)؛ لأنه الانقطاع الكامل.(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في : ﴿لدلوك الشمس﴾ [الإسراء: 78] (ثم يصلي) به (فيه فرضاً ونفلاً) فدخل الواجب بالأولى، (فإذا خرج الوقت بطل اھ (1/305،کتاب الطہارۃ، مطلب فی احکام المعذور)۔
وفی الفتاوی الہندیہ:شرط ثبوت العذر ابتداءً أن یستوعب استمراره وقت الصلاة کاملاً، وهو الأظهر، کالانقطاع لایثبت مالم یستوعب الوقت کله الخ، المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق. ، ویبطل الوضوء عند خروج وقت المفروضة بالحدث السابق. هكذا في الهداية وهو الصحيح. هكذا في المحيط في نواقض الوضوء الخ،إذا کان به جرح سائل وقد شد علیه خرقةً فأصابها الدم أکثر من قدر الدرهم، أو أصاب ثوبه إن کان بحال لوغسله یتنجس ثانیاً قبل الفراغ من الصلاة، جاز أن لا یغسله وصلی قبل أن یغسله وإلا فلا، هذا هو المختار."كتاب الطهارة، الباب السادس، 40،41/1، ط)۔