مجھے بیرونِ ملک جانا ہے، اور اس کے لیے بینک اکاؤنٹ میں 80 لاکھ روپے درکار ہیں، لیکن میرے پاس یہ رقم موجود نہیں۔
میں کسی دوسرے شخص سے لینا چاہتا ہوں، لیکن وہ یہ شرط لگا رہا ہے کہ آپ مجھے 3 ماہ میں 8 لاکھ روپے اضافی ادا کریں گے (ٹیکس کے نام پر) ،کیا شریعت میں یہ سود کے زُمرے میں آتا ہے؟
اگر یہ سود ہے تو اس کا کوئی متبادل شرعی راستہ بتائیں۔
واضح ہوکہ قرض پر کسی بھی قسم کا مشروط یا معروف نفع لینا شرعاً سود ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے ،جس کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں بڑی سخت وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں،اور فقہاء کرام کا بھی اس پر اجماع ہے کہ كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا فَهُوَ رِبًا(ہر وہ قرض جو نفع لائے، وہ سود ہے۔)،لہذا قرض پر کسی بھی قسم کا نفع لینا ناجائز وحرام ہے ،جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ۔
لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کا اپنے بینک اکاؤنٹ میں رقم ظاہر کرنے کے لئے دوسرے شخص سے قرض لینا ،اور اس کا اس شرط پر قرض دینا کہ سائل تین ماہ میں آٹھ لاکھ ٹیکس کے نام سے اضافی چارج ادا کرے گا، شرعاً یہ معاملہ سود ہونے کی وجہ سے نا جائزوحرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر قرض دینے والا مقروض کو اپنی رقم کے ساتھ ساتھ کوئی اور حقیقی خدمت یا سروسز بھی فراہم کرنے کی ذمہ داری لیتا ہے مثلاً:سائل کے لیے ویزہ یا قانونی کاغذات بنوانا،کسی سرکاری فیس یا حقیقی خرچ کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھانا ،تو ایسی صورت میں دائن کے لئے علیحدہ طور پراس فراہم کردہ سروسز کے عوض ،مارکیٹ میں رائج اور معروف رقم لینا جائز ہوگا ،اس سے زائد رقم چارج کرناجائز نہ ہوگا۔
قال اللّٰہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة الی قولہ(سورۃ البقرة: ۲۷۵)۔
وفی صحیح مسلم:عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہما قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا وموٴکلہ وکاتبہ و شاھدیه، وقال: ھم سواء (72/2)۔
(تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب البیوع، باب الربا، ۷/ ۳۹۸):الربا فضل خال عن عوض بمعیار شرعي مشروط لأحد المتعاقدین في المعاوضة .
وفي الدر المختار:القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ(166/5)۔
وفی بدائع الصنائع: (وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب الخ(کتاب القرض،7،/395، ط: سعید)۔
وفی النهر الفائق شرح كنز الدقائق:"هو فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال.
(هو فضل مال) ولو حكما فدخل ربا النسيئة والبيوع الفاسدة كالبيع بشرط فإنهم جعلوها من الربا وهذا أولى من قول بعضهم المقصر تعريف الربا المتبادر عند الإطلاق وذلك إنما هو رد الفضل (بلا عوض) خرج به ما سيأتي في الصرف من أنه لو باعه كر بر وشعير بضعفهما جاز بصرف الجنس إلى خلاف جنسه فضل قفيزي شعير على قفيز بر فإنه بعوض (في معاوضة مال) خرج به الهبة.
زاد في (الوقاية) مشروط لأحد المتعاقدين، لأنه لو شرط لغيرهما لا يكون من باب الربا، والأولى أن يقال في أحد البدلين لأن العاقد قد يكون وكيلًا وفضوليًّا والمعتبر كون الفضل للبائع أو المشتري."
(كتاب البيوع، باب الربا، ٣ / ٤٦٩،ط : دار الكتب العلمية)۔
کما فی الدرالمختار:(ھو) لغة :مطلق الزيادة وشرعا (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة(الی قوله) (خال عن عوض) خرج مسألة صرف الجنس بخلاف جنسه (بمعيار شرعي مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر الخ(170/5)۔
وفی الشامیة:(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه اھ(166/5) ۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1