میرا عدالتی خلع ہوا تھا ، میرے شوہر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جبکہ ان کو سب نوٹس جاتے تھے،اور میں نے بھی کئی بار التجاء کی کہ عدالت آ کر اپنا حق مہر لے جائیں لیکن وہ نہیں آ ئے اور مجھے عدالتی خلع مل گئی ، پھر کچھ مدت بعد انہوں نے رابطہ کیا کہ اب تم کیا چاہتی ہو، میں نے کہا کہ وہی جو عدالت کا فیصلہ ہے، توانہوں نے کہا ٹھیک ہے، اور حق مہر لینے پر راضی ہو گئے، اور اب ان کے گھر والے حق مہر لے گئے ہیں، کیا اب شرعی خلع ہو گئ ہے، ہمارے درمیان یا نہیں ۔
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں میں بہت پریشان ہوں کیونکہ میرے رشتے بھی آرہے ہیں اب اس صورت میں دوسرا نکاح جائز ہے یا نہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کا بیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اور اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے عدالتی خلع ہو جانے کے بعد سائلہ کے استفسار پر خلع پر رضامندی ظاہر کی ہو، اور عملاً حقِ مہر بھی واپس لے لیا ہوتو ایسی صورت میں شرعاً بھی یہ خلع معتبر ہوچکا ہے، اوراس سے سائلہ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے، چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور عورت کی عدت مکمل ہونے کے بعد وہ اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے،تاہم اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب وقبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، البتہ اس نکاح کے بعد آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
کما فی المبسوط: والخلع جائز عند السلطان وغیرہ لأنہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود وھو بمنزلۃ الطلاق الخ ( باب الخلع، ج 6، ص 173، ط: دارلکتب العلمیۃ)۔
وفی الدر المختار: ( و ) شرطہ کالطلاق الخ
وفی الشامیۃ: و أما رکنہ فھو کما فی البدائع: إذا کان بعوض الإیجاب و القبول لأنہ عقد علی الطلاق بعوض فلا یقع الفرقۃ و لا یستحق العوض بدون القبول بخلاف ما إذا قال خالعتک و لم یذکر العوض و نوی الطلاق فإنہ یقع و إن لم تقبل لأنہ طلاق بلا عوض فلا یفتقر إلی القبول الخ (باب الخلع، ج 3 ، ص 441 ،ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ :إذا تشاق الزوجان و خافا ألا یقیما حدود اللہ فلا بأس بأن تفتدی نفسھا منہ بمال یخلعھا بہ فإذا فعل ذالک وقعت تطلیقۃ بائنۃ و لزمھا المال الخ ( باب الثامن فی الخلع ، ج 1 ، ص 488 ، ط: ماجدیۃ )۔
وفیھا ایضآً: إن کان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ أن یتزوجھا فی العدۃ وبعد انقضائھا الخ ( فصل فیما تحل بہالمطلقۃ الخ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیۃ )۔