السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم تین بھائی ہیں۔ میرا نکاح کچھ عرصہ قبل ہوا، مگر نکاح کے بعد ہم دونوں (میاں بیوی) کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے شدید ناچا قیاں پیدا ہو گئیں۔ صلح کی تمام کوششیں ناکام رہیں، تو قبائلی عمائدین کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے زبانی خلع ہوا، جس میں بدلِ خلع کے طور پر ساٹھ ہزار روپے طے پائے۔خلع کے بعد میری سابقہ بیوی کی والدہ، جو کہ ہمارے گھر کے قریب ایک زمین کی مالک تھیں، نے ساٹھ ہزار روپے ادا کرنے کے بجائے وہ زمین میری سابقہ بیوی کی جانب سے مجھے بطور بدلِ خلع دینے کی پیشکش کی، جس کو میں نے قبول کر لیا۔ اس وقت اس زمین کی قیمت ایک لاکھ اسی ہزار روپیہ مقرر کی گئی ، جن میں سے ساٹھ ہزار روپے بدلِ خلع کے طور پر منہا کیے گئے، جبکہ باقی رقم میں نے اپنی جیب سے ادا کی۔میرے کسی بھائی نے اس زمین کی قیمت میں مالی طور پر کوئی حصہ نہیں لیاہے ۔اب سوال یہ ہے کہ:کیا میرے دوسرے بھائی یا والد صاحب شرعاً اس زمین میں حصہ کا حق رکھتے ہیں یا نہیں؟ جبکہ زمین خالصتاً بدلِ خلع اور میری ذاتی رقم سے خریدی گئی ہے۔بینوا توجروا!
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق بدلِ خلع کے طور پر ملنے والی مذکور زمین کی بقیہ ادائیگی میں اگر واقعۃً سائل کے بھائی اور والد نے کوئی رقم شامل نہیں کی تھی تو ایسی صورت میں مذکور زمین صرف سائل کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی ۔ سائل کے والد یا دیگر بھائیوں کا اس زمین میں حقِ دعویٰ شرعاً درست نہ ہوگا ، جس سے بہر صورت اجتناب چاہیئے ۔