متفرقات

عدالتی اسٹے آرڈر کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
88302
| تاریخ :
2025-10-25
آداب / تعلیم و تعلم / متفرقات

عدالتی اسٹے آرڈر کی شرعی حیثیت

السلام علیکم شریعت کی رو سے عدالتی حکم امتناعی سٹے آرڈر کی شرعی حیثیت کیا ہے 2 :اگر کسی نے سٹے آرڈر حاصلِ کیا تو کیا وہ اس زمین یا معاملے میں کس قسم کا تصرف کرسکتے ہیں یا نہیں 3:کیا شریعت میں اس عدالتی پابندی کی رعایت لازمی ہے یا نہیں یا فریقین کے رضامندی سے صلح کرسکتے ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ اسٹے آرڈر درحقیقت حاکمِ وقت کا حکم ہوتا ہے، اور معاصی کے علاوہ امور میں حاکم کی اطاعت واجب ہوتی ہے، اب اگر یہ آرڈر کسی فریق کی درخواست پر جاری ہوا ہو اور دوسرے فریق کو یقین ہو کہ میرے خلاف یہ درخواست ناحق دی گئی تو ایسی صورت میں اس کو چاہیے کہ ضابطے کی عدالتی کارروائی کے بعد متنازعہ زمین وغیرہ میں تصرف کرے۔ عدالتی حکم نامہ کے باوجود ضابطے کی عدالتی کارروائی کے بغیر متنازعہ زمین وغیرہ تصرف کرنا درست نہیں، البتہ اگر فریقین کے درمیان صلح ہو چکی ہو تو ایسی صورت میں شرعاً اگرچہ اس زمین وغیرہ میں تصرف کیا جا سکتا ہے، تاہم صلح سے قبل یا صلح کے بعد تحریری طور پر عدالت میں ایک درخواست دے کر اسٹے آرڈر کو منسوخ کرانا چاہیے،تاکہ مستقبل میں کسی فریق کو قانونی مشکلات درپیش نہ ہوں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في القران المجيد: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ(سورة النساء:آيه:٢٩)
وفي مقام آخر: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا(سورة النساء:آيه:٥٩)
وفی مشکوۃ المصابیح:وعن بريدة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " القضاة ثلاثة: واحد في الجنة واثنان في النار فأما الذي في الجنة فرجل عرف الحق فقضى به ورجل عرف الحق فجار في الحكم فهو في النار ورجل قضى للناس على جهل فهو في النار ". رواه أبو داود وابن ماجه.( ‌‌ ‌‌باب العمل في القضاء والخوف منه،ج:٢،ص:٣٢٤،مط:قديمى كتب خانه)
و في الجامع لاحكام القران للقرطبي: فأمر بطاعته عز وجل أولا، وهي امتثال أو أمره واجتناب نواهيه، ‌ثم ‌بطاعة ‌رسوله ‌ثانيا ‌فيما ‌أمر ‌به ‌ونهى ‌عنه، ثم بطاعة الأمراء ثالثا، على قول الجمهور وأبي هريرة وابن عباس وغيرهم. قال سهل بن عبد الله التستري: أطيعوا السلطان في سبعة: ضرب الدراهم والدنانير، والمكاييل والأوزان، والأحكام والحج والجمعة والعيدين والجهاد. قال سهل: وإذا نهى السلطان العالم أن يفتي فليس له أن يفتي، فإن أفتى فهو عاص وإن كان أميرا جائرا. وقال ابن خويز منداد: وأما طاعة السلطان فتجب فيما كان لله فيه طاعة، ولا تجب فيما كان لله فيه معصية (سورة النساء (4): آية ٥٩،ج:٣ ،ص:١٨١،مط:التراث)
وفي التفسير المظهري:(مسئلة) وهذا الحكم يعنى ‌وجوب ‌إطاعة ‌الأمير مختص بما لم يخالف امره الشرع يدل عليه سياق الآية فان الله تعالى امر الناس بطاعة اولى الأمر بعد ما أمرهم بالعدل فى الحكم تنبيها على ان طاعتهم واجبة ما داموا على العدل ونصّ على ذلك فيما بعد فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ، الاية قال بعض الأفاضل صيغة اولى الأمر يفيد ان متابعتهم واجبة فيما ولوه من الأمر وجعلهم الله تعالى واليا فيه وانما هو العدل فى الحكم(سورة النساء (4): آية ٥٩،ج:٢ ،ص:١٥٢،مط:رشيديه)
و في ردالمحتار: لا‌يجوز ‌لأحد ‌من ‌المسلمين ‌أخذ ‌مال ‌أحد ‌بغير ‌سبب ‌شرعي.( ‌‌بَابُ التَّعْزِيرِ،٤،ص:٦١،مط:سعيد)
و في البدائع الصنائع:ولا بأس للقاضي أن يرد الخصوم إلى الصلح إن طمع منهم ذلك، قال الله تبارك وتعالى {والصلح خير} [النساء: 128] فكان الرد إلى الصلح ردا إلى الخير، وقال سيدنا عمر رضي الله عنه: ردوا الخصوم حتى يصطلحوا فإن فصل القضاء يورث بينهم الضغائن فندب رضي الله عنه القضاة إلى رد الخصوم إلى الصلح، ونبه على المعنى وهو حصول المقصود من غير ضغينة، ولا يزيد على مرة أو مرتين ‌فإن ‌اصطلحا، وإلا قضى بينهما بما يوجب الشرع، وإن لم يطمع منهم الصلح لا يردهم إليه، بل ينفذ القضية فيهم؛ لأنه لا فائدة في الرد.( فصل في بيان آداب القضاء،ج:٧،ص:١٣،مط:سعيد)
و في الهنديه: إذا كانت الدار في يدي رجلين واختصما فيها وكل واحد منهما يدعيها فإنه يقضي بينهما نصفين قضاء ترك ‌فإن ‌اصطلحا فيها قيل القضاء على أن لأحدهما الثلثين وللآخر الثلث كان ذلك جائزا، كذا في المحيط. لو كانت الدار في يدي رجل منها منزل وفي يدي رجل منها منزل آخر وقال أحدهما: الدار بيني وبينك نصفين، وقال الآخر: بل هي كلها لي فللذي ادعى جميعها ما في يده ونصف ما في يد صاحبه والساحة بينهما نصفين ‌فإن ‌اصطلحا قبل القضاء على أن تكون الدار بينهما نصفين أو على الثلث والثلثين فهو جائز، وكذا لو اصطلحا بعد القضاء فهو جائز. ولو كان أحدهما نازلا في منزل من الدار والآخر في علو ذلك المنزل وادعى كل واحد منهما جميعها فلكل واحد منهما ما في يده والساحة بينهما نصفين ‌فإن ‌اصطلحا قبل القضاء أو بعده على أن لصاحب السفل العلو ونصف الساحة ولصاحب العلو السفل ونصف الساحة جاز، كذا في المبسوط.( الباب العاشر في الصلح في العقار وما يتعلق به،ج:٤،ص: ٢٥٦،مط:ماجديه)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88302کی تصدیق کریں
0     385
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • سورۃ فاتحہ کے مکمل ہونے پر آمین کہنا

    یونیکوڈ   اسکین   متفرقات 0
  • CoEducation-مخلوط تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   متفرقات 1
  • غیر مسلم ملک میں پڑھائی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   متفرقات 0
  • شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا بطور کرامت بیک وقت مختلف مقامات میں موجود ہونا

    یونیکوڈ   اسکین   متفرقات 0
  • ماہواری میں قرآن چھوئے بغیر انٹر نیٹ سے قرآن حفظ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   متفرقات 0
  • استاد کا خود کرسی پر بیٹھ کر زمین پر بیٹھے قرآن پڑھنے والے طلباء کو پڑھانا

    یونیکوڈ   متفرقات 1
  • عورت کے لیے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا

    یونیکوڈ   متفرقات 1
  • فقہ حنفی اور فتویٰ کی مستند کتابیں

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • میت کی اولاد اور اس کے اعزہ و اقرباء کے علاوہ کا اس کے لۓ ایصالِ ثواب کرنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • اولیاء اللہ سے گناہ سرزد ہونا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • مسلمان لڑکی کا قادیانی بچوں کو انکے گھر میں پڑھانے جانا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • عورت کے فتوے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • وہ شخص جس کے مرنے سے درختوں اور جانوروں تک کو سکون ملتا ہے

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • ’’ض‘‘ کے مخرج سے متعلق متعدد سوالات

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • گھر کے قریب مدرسے -سکول سےتلاوتِ قرآن سنائی دینے کی صورت کے احکامات

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • عورت کا تبلیغ کرنا , عورت کا قبرستان جانا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • قبر پر پانی ڈالنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • امام ابوحنیفہؓ کی کتب

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • مسجد میں فضائلِ اعمال کی تعلیم اور درسِ قرآ ن کے سلسلے میں تقابل و ٹکراؤ کی فضا بنانا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • زیرِ ناف بال کاٹنے کی حدود

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • عورت کی مختلف خصلتوں کی بناء پر ، مختلف تشبیہات

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • ’’الرحمٰن میڈیکل کلینک‘‘ نام رکھنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • والدین کے محتاجِ خدمت ہونے کی صورت میں ،طلبِ علم کیلۓ نکلنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • علم ابجد یا علم نجوم والوں سے غیب اور مستقبل کا پوچھنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • بروز جمعرات ارواح کا گھروں میں آنا -نمازِ جنازہ کے بعد مکرر اجتماعی دعا-شہر کی متعدد مساجد میں قیامِ جمعہ

    یونیکوڈ   متفرقات 0
Related Topics متعلقه موضوعات