میری عمر 72 سال ہے، 6 سال پہلے میرا پروسٹیٹ کا آپریشن ہوا تھا۔ اب مجھے ہر 4 یا 5 ماہ بعد رات کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مجھے احتلام ہوا ہے، لیکن منی خارج نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر نے بھی بتایا ہے کہ اب منی خارج نہیں ہوگی۔ ایسی صورت میں کیا میرے اوپر غسل فرض ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کو صرف یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسے احتلام ہوا ہے، مگر منی خارج نہیں ہوئی، اور ڈاکٹر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہو کہ اب منی کا خروج ممکن نہیں، تو ایسی حالت میں اگر نیند سے بیدار ہونے کے بعد کپڑوں یا بدن پر منی کے آثار نہ پائے جائیں، تو محض احتلام کے خیال یا احساس کی بنیاد پر سائل پر غسل واجب نہیں ہوگا۔
کما فی الھندیۃ: وإن استیقظ الرجل و وجد علی فراشہ أو فخذہ بللا وھو یتذکر احتلاما ان تیقن أنہ منی أو تیقن أنہ مذی أو شک أنہ مذی فعلیہ الغسل (إلی قولہ) وإن شک أنہ منی أو مذی قال أبو یوسفؒ لایجب الغسل حتی یتیقن بالاحتلام وقالا یجب الخ (کتاب الطھارۃ، ج: 1، ص: 15، ط: ماجدیہ)۔
وفیھا ایضاً: ولو تذکر الاحتلام ولذۃ الانزال ولم یر بللا لایجب علیہ الغسل والمرأۃ کذلک فی ظاھر الروایۃ لان خروج منیھا إلی فرجھا الخارج شرط لوجوب الغسل علیھا وعلیہ الفتوی ھکذا فی معراج الدرایۃ الخ (کتاب الطھارۃ ، ج: 1، ص: 15، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر المختار: (وفرض) الغسل (عند) خروج (منی) من العضو (إلی قولہ) (منفصل عن مقرۃ) ھو صلب الرجل وترائب المرأۃ (إلی قولہ) (بشہوۃ) أی لذۃ (إلی قولہ) (وإن لم یخرج) من رأس الذکر (بھا) وشرطہ ابو یوسفؒ وبقولہ یفتی فی ضیف خاف ریبۃ أو استحی کمافی المستصفی وفی القھستانی والتاترخانیۃ معزیا للنوازل یقول أبی یوسفؒ تأخذ لأنہ أیسر علی المسلمین قلت ولا سیما فی الشتاء والسفر الخ
وفی رد المحتار تحت: (قولہ کمحتلم) فإنہ لا لذۃ لہ یقینا لفقد إدراکہ ط فتأمل وقال الرحمتی: أی إذا رأی البلل ولم یدرک اللذۃ لأنہ یمکن أنہ أدرکھا ثم ذھل عنھا فجعلت اللذۃ حاصلۃ حکما الخ (کتاب الطھارۃ، ج: 1، ص: 160، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفیہ ایضاً: (و) عند (رؤیۃ مستیقظ) (إلی قولہ) (و إن لم یتذکر الاحتلام) إلا أنہ مذی أو ودی أو کان ذکرہ منتشر قبیل النوم فلاغسل علیہ اتفاقا کالودی لکن فی الجواھر إلا إذا نام مضطجعا أو تیقن أنہ منی أو تذکر حلما فعلہ الغسل والناس عنہ غافلون (لا) یفترض (إن تذکر ولو مع اللذہ) والإنزال (ولم یر) علی رأس الذکر (بللا) إجماعا (وکذا المرأۃ ) مثل الرجل علی المذھب الخ (کتاب الطھارۃ، ج: 1، ص: 163، ط: ایچ ایم سعید)۔