اسلام علیکم! میری بھتیجی سعودیہ سے یہاں آئ ہے یو نیورسٹی میں پڑھنے ،اور یہاں وہ اپنے نانا کے گھر رہتی ہے، اور اس کے والدین سعودیہ میں ہی ہیں، کیا اس کا یہاں مخلوط یونیور سٹی میں پڑھنا جائز ہے جبکہ وہ پردہ کے ساتھ جاتی ہے اور اس کا کہنا ہے کےلڑکوں کے ساتھ کوئ بات نہیں ہوتی۔
واضح ہو کہ مخلوط تعلیمی نظام( جس میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں )بہت سے مفاسد کا باعث ہے، اس لیے اس نظام تعلیم میں ایک بالغ بچی کے لیے پڑھنا درست نہیں، لہذا سائلہ کی بھتیجی اگرچہ شرعی پردے کا اہتمام کرتے ہوئے نامحرم لڑکوں سے بات چیت کرنے سے بھی احتیاط کرتی ہو لیکن پوری پڑھائی کے دوران عملا اس کی پابندی کرنا ممکن نہیں رہتا، نیز مخلوط ماحول بذات خود فتنہ،طد نظر ی و اختلاط کا باعث اور شریعت کے اصول حجاب کے خلاف ہے، خصوصا جبکہ ایسے ماحول اور اداروں کے مضر اثرات واضح بھی ہوں، اس لیے سائلہ کی بھتیجی کو اپنی تعلیم حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی کے کسی فیمیل کیمپس کا انتخاب کرنا چاہیے۔
کما فی سنن الترمذی: (حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إياكم والدخول على النساء "، فقال رجل من الانصار: يا رسول الله، افرايت الحمو؟، قال: " الحمو الموت ". قال: وفي الباب، عن عمر، وجابر، وعمرو بن العاص. قال ابو عيسى: حديث عقبة بن عامر، حديث حسن صحيح، وإنما معنى كراهية الدخول على النساء على نحو ما روي، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لا يخلون رجل بامراة إلا كان ثالثهما الشيطان "، ومعنى قوله الحمو يقال: هو اخو الزوج كانه كره له ان يخلو بها)۔ (رقم الحدیث:1171)۔
وفی رد المحتار:(قولہ: زائدۃ) ببعدہ قولہ فی القنیۃ رامزا :ویجوز الکلام المباح مع امرءۃ اجنبیۃ وفی المجتبی رامزا: وفی الحدیث دلیل علی انہ لاباس ان یتکلم مع النساء بمالایحتاج الیہ ولیس ھٰذا من الخوض فی مالا یعنیہ انما ذالک فی کلام فیہ اثم فالظاھر انہ قول آخر او محمول علی العجوز ،تأ مل و تقدم فی شروط الصلاۃ ان صوت المرأۃ عورۃ علی راجح ومر الکلام فیہ فراجع الخ۔ (ج : 6،ص : 359،ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: إلامن أجنبیة فلایحل مس وجهها وکفها وإن أمن الشهوة؛ لأنه أغلظ إلی قوله: وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبیة حرام (الی قولہ) ثم رأیت في منیة المفتي مانصه: الخلوة بالأجنبیة مکروهة وإن کانت معها أخری کراهة تحریم الخ۔(ج: 5، ص: 260،ط: دار الفکر)۔
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 1غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0