میں جرمنی کا رہائشی ہوں، اور میں بینک قرض کے ذریعے گھر خریدنا چاہتا ہوں، بینک سود وصول کرتا ہے، کیونکہ یہ ان کا قانون ہے، کیا میں ایسے قرض سے گھر خرید سکتا ہوں؟ براہِ مہربانی استدلال کے ساتھ وضاحت فرمائیں، یہ حرام ہے یا حلال اور کیوں؟
واضح ہوکہ قرآن و حدیث میں سود (ربا) کی حرمت صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے اور اس میں مسلم و غیر مسلم کسی ملک کی تفریق نہیں رکھی گئی۔ لہٰذا مسلمان کے لیے سودی لین دین ہر جگہ یکساں طور پر ناجائز اور حرام ہے۔لہذاغیرمسلم ملک میں حصولِ مکان کے لیے بھی اگر سودی معاملہ کرنا پڑتا ہو تو یہ بلاشبہ ناجائز ہے اور اس سے احتراز لازم ہے،البتہ اگر کوئی مالیاتی ادارہ یا بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کرلے اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعہ قسطوں پر یہ مکان فروخت کر دے اور اس طرح قسطوں کے معاملے میں ابتداء ہی سے یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہوگا ، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی اور کسی قسط کے شارٹ ہونے پر کوئی چارجز بھی وصول نہ کیے جاتے ہوں، تو اس طرح معاملہ شرعاً بھی جائز ہے، اور ہر شخص اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن سکتا ہے۔
کما قال الله تعالى: وَ أَحَلَّ اللّٰہ البيع و حَرَّمَ الربوا الآية (سورۃ البقرۃ ، آيت : 275)۔
وفی الدر المختار: (و صح بثمن حال) و هو الاصل (و مؤجل إلى معلوم) لئلا يفضى إلى النزاع و لو باع مؤجلا صرف شهر به يفتی الخ
وفی رد المحتار : تحت (قوله لئلا يفضى إلى النزاع) تعليل الاشتراط كون الأجل معلوم (إلى قوله) و منها اشتراط أن يعطيه الثمن على التفاريق أو كل اسبوع البعض، فإن لم يشترط فی البيع بل ذكر بعده لم يفسد ، وكان له أخذ الكل جملة و تمامه فی البحر الخ (كتاب البيوع، ج: 4، ص: 531 ط: سعید)۔
وفی شرح المجلة: البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح (إلى قوله) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتاجيل والتقسيط اھ (المادۃ 245/246 ، ج: 2 ، ص: 166 ، ط: اسلامیۃ)ـ
وفی فقہ البیوع : و كما يجوز ضرب الأجل لأداء الثّمن دفعةً واحدة ، كذلك يجوز أن يكون أداء الثّمن بأقساط ، بشرط أن تكون آجال الأقساط و مبالغها معينةً عند العقد . و قد يُسمّى "البيع بالتقسيط"، و هو نوع من البيع المؤجل الخ (البیع بالتقسیط ، ج:1 ، ص: 539 ، ط: معارف القرآن)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1