سود

مسلمان کے لئے غیر مسلم ملک میں بینک کے ذریعہ گھر خریدنا

فتوی نمبر :
89011
| تاریخ :
2025-11-21
معاملات / مالی معاوضات / سود

مسلمان کے لئے غیر مسلم ملک میں بینک کے ذریعہ گھر خریدنا

میں جرمنی کا رہائشی ہوں، اور میں بینک قرض کے ذریعے گھر خریدنا چاہتا ہوں، بینک سود وصول کرتا ہے، کیونکہ یہ ان کا قانون ہے، کیا میں ایسے قرض سے گھر خرید سکتا ہوں؟ براہِ مہربانی استدلال کے ساتھ وضاحت فرمائیں، یہ حرام ہے یا حلال اور کیوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ قرآن و حدیث میں سود (ربا) کی حرمت صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے اور اس میں مسلم و غیر مسلم کسی ملک کی تفریق نہیں رکھی گئی۔ لہٰذا مسلمان کے لیے سودی لین دین ہر جگہ یکساں طور پر ناجائز اور حرام ہے۔لہذاغیرمسلم ملک میں حصولِ مکان کے لیے بھی اگر سودی معاملہ کرنا پڑتا ہو تو یہ بلاشبہ ناجائز ہے اور اس سے احتراز لازم ہے،البتہ اگر کوئی مالیاتی ادارہ یا بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کرلے اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعہ قسطوں پر یہ مکان فروخت کر دے اور اس طرح قسطوں کے معاملے میں ابتداء ہی سے یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہوگا ، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی اور کسی قسط کے شارٹ ہونے پر کوئی چارجز بھی وصول نہ کیے جاتے ہوں، تو اس طرح معاملہ شرعاً بھی جائز ہے، اور ہر شخص اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال الله تعالى: وَ أَحَلَّ اللّٰہ البيع و حَرَّمَ الربوا الآية (سورۃ البقرۃ ، آيت : 275)۔
وفی الدر المختار: (و صح بثمن حال) و هو الاصل (و مؤجل إلى معلوم) لئلا يفضى إلى النزاع و لو باع مؤجلا صرف شهر به يفتی الخ
وفی رد المحتار : تحت (قوله لئلا يفضى إلى النزاع) تعليل الاشتراط كون الأجل معلوم (إلى قوله) و منها اشتراط أن يعطيه الثمن على التفاريق أو كل اسبوع البعض، فإن لم يشترط فی البيع بل ذكر بعده لم يفسد ، وكان له أخذ الكل جملة و تمامه فی البحر الخ (كتاب البيوع، ج: 4، ص: 531 ط: سعید)۔
وفی شرح المجلة: البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح (إلى قوله) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتاجيل والتقسيط اھ (المادۃ 245/246 ، ج: 2 ، ص: 166 ، ط: اسلامیۃ)ـ
وفی فقہ البیوع : و كما يجوز ضرب الأجل لأداء الثّمن دفعةً واحدة ، كذلك يجوز أن يكون أداء الثّمن بأقساط ، بشرط أن تكون آجال الأقساط و مبالغها معينةً عند العقد . و قد يُسمّى "البيع بالتقسيط"، و هو نوع من البيع المؤجل الخ (البیع بالتقسیط ، ج:1 ، ص: 539 ، ط: معارف القرآن)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سرتاج خان ملی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89011کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات