شرکت و مضاربت

شراکت داری کے متعلق چند سوالات

فتوی نمبر :
89207
| تاریخ :
2025-11-26
معاملات / مالی معاوضات / شرکت و مضاربت

شراکت داری کے متعلق چند سوالات

محترم و مکرم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہمارے گاؤں میں لوگ دریائے سندھ کے ساتھ باہر خشکی والے ملکیتی زمین والے حصہ سے انتہائی محنت سے زمین کو ایک حد تک کھود کر تقریباً 70/80 لاکھ روپے مصارف خرچ کرکے نیچے جو ملبہ ہے اسے مختلف مشینوں سے چھان کر سونے کو انتہائی باریک ذرات کی شکل میں الگ کرتے ہیں، سینکڑوں ٹن ملبہ کے صفائی کےبعد چند گرام سونا ہاتھ آتا ہے اور کئی بار اس میں نقصان بھی ہوجاتا ہے کہ اس زمین میں اتنے ذرات نہیں ملتے جو کم از کم ان مصارف کو ہی پورا کرسکیں تو جو مصارف ہوتے ہیں وہ سب تاوان ہوجاتے ہیں، اب ذیل میں چند مسائل کا جواب مرحمت فرمائیں۔
(1)اگر کوئی شخص اپنی ملکیتی زمین سے اس عمل کے ذریعہ سونا نکالنے کیلئے کسی کو اپنے ساتھ شریک کرے جو بعد تحقیق کے یہ بتاتے ہیں کہ ہم اپنے پارٹنر کو زمین کے اوپر ملبہ میں اپنے ساتھ شریک کرتے ہیں نہ کہ زمین کے انتقال یا ملکیت میں بلکہ کام ختم ہونے کے بعد ملکیت فریقِ اول کی ہی رہ جاتی ہے، تو کیا شراکت کی یہ صورت جائز ہے؟
(2) اگر کوئی شخص اپنی ملکیتی زمین کا ملبہ کسی اور شخص کو فروخت کرے بایں صورت کہ مثلاً یہ دس کنال زمین ہے اس کا ملبہ میں آپ کو فروخت کرتا ہوں یومیہ 25/30 ہزار کے حساب سے جس کے لیے لفظِ ” مالکانہ “ کا استعمال کیا جاتا ہے اور جس دن کسی مشین کی خرابی یا غمی خوشی کی وجہ سے کام نہ ہو تو اس دن کا مالکانہ وصول نہیں کیا جاتا ہے،اور ظاہر ہے کہ اس ملبہ کو وزن تو نہیں کیا جاسکتا تو وہاں موجود مشینوں میں سے ایک مشین کے ذریعہ اندازہ لگایا جاتا ہے،اس ایک مشین پر جتنا ملبہ نکالا جائے اس کے حساب سے ادائیگی کی جائیگی کہ اگر آپ دو مشینیں نصب کرتے ہیں پھر ادائیگی بھی الگ ہوگی، کیونکہ دو مشینوں کے ذریعہ زیادہ ملبہ نکلے گا، تو کیا مذکورہ مالکانہ کے حساب سے یہ لین دین جائز ہے یا معاہدہ میں رد و بدل کرکے جائز صورت ہوسکتی ہے؟
(3) اگر بالفرض یہ معاملات جائز نہیں ہے تو بعض کاروبار ایسے ہیں جو اس کے ساتھ بالواسطہ منسلک ہوتے ہیں جیسے مذکورہ کاروبار میں استعمال ہونے والی مختلف اشیاء ان کو فروخت کرنا مثلاً ان مشینوں میں استعمال کیلئے ڈیزل، پیٹرول، موبل آئل فروخت کرنا یا انہیں مرمت کرنا، یا سونے کے ذرات کو ریت مٹی وغیرہ سے الگ کرنے کیلئے ان کو پارہ( سیماب ) فروخت کرنا، یا ان کو کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنا یا پھر ان کے ساتھ اجرت پر عمل کرنا ،تو یہ سب کام جائز ہوں گے؟
(4) اور چونکہ اس کے عمل کے مصارف بہت زیادہ ہوتے ہیں،ایک دن کا خرچہ لاکھوں میں ہوتا ہے،اور یکجا سونا نہیں ہوتا بلکہ انتہائی باریک ذرات کی شکل میں ہوتا ہے، تو کیا اس میں جائز معاملہ سے حاصل ہونے والے مال میں عام زکوۃ واجب ہوگی یا خمس واجب ہوگا؟ اور تمام مصارف نکالنے کے بعد خمس واجب ہوگا یا شروع ہی میں نکالنا ہوگا؟
(5) اور کیا یہ تراب الصواغین کے زمرہ میں داخل ہوگایا رکازکے زمرہ میں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر کسی کی مملوکہ زمین میں ایسے معدنیات پائے جائیں جو غیر مائع اور آگ پر پگھلنے سے پگھل سکےجیسے سونا،چاندی اور تانبا یااس کے ذرات اور ٹکڑے وغیرہ میں سے کچھ پایا جائے تو مالکِ زمین ہی شرعاً اس کا مالک متصور ہوگا، اورمالکان پر نکلنے والے سونے چاندی وغیرہ کا خمس( پانچواں حصہ ) بیت المال میں جمع کرنا ضروری ہے،لیکن اگر کوئی شخص اس خمس(پانچویں حصے) کو بیت المال میں جمع کرنے کے بجائے فقراء اور مساکین پر خرچ کردے اورقانوناً بھی اس کی اجازت ہو، تو اس کی بھی گنجائش ہے لیکن بیت المال میں جمع کرنا بہر حال افضل ہےجبکہ بقیہ چار حصے زمین کے مالک کے ہوں گے۔
اس مختصر سی تمہید کے بعد سائل کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:
(1)کسی شخص کا اپنی ملکیتی زمین سے سونا نکالنے کیلئے کسی دوسرے شخص کو محض ملبہ ہٹانےاورسونا نکالنےکیلئے اس کے خدمات لینا اور اس کے بدلے اسے نکلنے والے سونے میں سے حصہ دینا فقہی اعتبار سے شرکت کے بجائے اجارہ کی صورت بنتی ہے اور عقد اجارہ کے صحت کی شرائط میں سے ایک شرط اجرت کی تعیین بھی ہے،اسی طرح اجارہ میں اجیر کیلئے ”اجرت من جنس عملہ“( جو چیز خود اجیر کے عمل پر موقوف ہو ،اس کو اسی عمل کی اجرت میں مقرر کرنا) مقرر کرنا شرعاً جائز نہیں وگرنہ اجرت کے مجہول ہونے اور ”اجرت من جنس عملہ“کی صورت میں یہ عقد فاسد ہوکر مستاجر پر اجیر(ملازم ) کو اجرتِ مثل کی ادائیگی لازم ہوتی ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں مالکِ زمین اور اس پر کام کرنے والے شخص کامعاہدہ کرتے وقت اس کھدائی کے نتیجہ میں اسی زمین سے نکلنے والےسونے کوبطورِ اجرت مقرر کرنا اجرت مجہول ہونے اور ”اجرت من جنس عملہ“کی وجہ سے شرعاً یہ معاملہ فاسد ہوجائیگا،اور مالکِ زمین کے ذمہ اپنے پارٹنر کیلئے اس ذمہ داری کی انجام دہی پر اجرتِ مثل ( یعنی مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے اس کام کیلئے جتنی اجرت ملنی چاہیئے تھی ) کی ادائیگی لازم ہوگی اور سونے وغیرہ کے نکلنے کی صورت میں مالکِ زمین ہی اس کا حقدار ہوگا ۔
(2) اس معاملہ کو درست کرنے کیلئے سوال میں جو طریقۂ کار ذکر کیا گیا ہے ، جس میں دن بھر کی کھدائی کے نتیجہ میں اس ملبہ کو مبیع قرار دیکر کام کرنے والے کے ذمہ اس کی متعین رقم کی ادائیگی لازم کی گئی ہے، درحقیقت اس ملبہ کی خریداری نہیں ہے اور نہ ہی کام کرنے والے کو یہ ملبہ لیجانے اور اپنے استعمال میں لانے کی اجازت ہوتی ہے، اور نہ ہی اس کی خریداری مقصود ہے، بلکہ در اصل اس حیلہ کو بنیاد بنا کر ایک مجہول چیز (ملبہ سے ملنے والے سونے) کی خرید و فروخت مقصود ہے، جو عقد کے وقت مجہول اور غیر مقدور التسلیم ہے،جس کی بیع شرعاً جائز نہیں،لہذا اس طریقہ پر معاملہ کرنا بھی شرعاً جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے،البتہ اس کی جائز اور متبادل صورت اجارہ کی ہوسکتی ہےکہ مالکِ زمین اپنی زمین سے سونا نکالنے کیلئے ان کے ساتھ یومیہ یا ماہانہ بنیاد پر معلوم اور متعین کام کرنے کا معاہدہ کرلے تو ایسی صورت میں کام کرنے والے افرادحسبِ معاہدہ بہر صورت (خواہ سونا نکلے یا نہ نکلے) اپنے طے شدہ اجرت کے حقدار ہوں گے،تاہم سونا نکل آنے کی صورت میں انہیں کیش رقم دینے کے بجائے اجرت کے عوض یہی سونا دینے کی بھی گنجائش ہے،لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ اجرت ان کے اس عمل سے نکلنے والے سونے سے مشروط نہ ہواور نہ ہی انہیں فروخت کرنے کی شرط لگائی جائے ، بصورتِ دیگر ”قفیز الطحان“ اور ”صفقۃ فی صفقۃ“ کی وجہ سے یہ معاملہ بھی شرعاً ناجائز ہوگا۔
(3) مندرجہ بالا دونوں (جائز و ناجائز ) صورتوں میں اس کاروبار کرنے والے افراد کو اس کاروبار سے متعلقہ اشیاء فروخت کرنا،یا پھر ان کے ساتھ اجرت پر عمل کرنا چونکہ مستقل معاملات ہیں اس لئے ان کے ساتھ دیگر جائزمعاملات کرنا شرعاً جائز ودرست اور اس کے عوض حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے۔
(4) زمین سے حاصل ہونے والے وہ معدنیات جو جامد ہو اور پگھلانےسے وہ پگھل جاتی ہوں جیسے سونا ،چاندی لوہا وغیرہ ،ان کے حصول پر فقط خمس لازم ہے اور یہ خمس مصارف و اخراجات کے منہا کرنے سے قبل ہی کل پیداوار سے ادا کرنا ضروری ہے،جبکہ اس کے بعد اگر وہ سونا اس طرح ہی اپنے پاس رکھا ہوا ہو،تو اگر وہ سونا بذات خود ساڑھے سات تولہ ہو ،یا چاندی،نقدی اور مالِ تجارت میں سے کسی کو اس کے ساتھ ملاکر ساڑھے باؤن تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ جاتا ہو تو ایسی صورت میں سال گزرنے پر اس کے ذمہ ڈھائی فیصد کےحساب سے ادائیگی زکوۃ لازم ہوگی، اوراگرپہلے سے وہ صاحبِ نصاب نہ ہو مگراس سونے سےیہ شخص صاحبِ نصاب بن جائے تو اس سونےکے اعتبارسے سال مکمل ہونے پر ڈھائی فیصد کےحساب سے ادائیگی زکوۃ لازم ہوگی۔
(5) مذکورہ زمین سے نکلنے والا سونا/سونے کے ذرات تراب الصواغین کے بجائے رکاز میں داخل ہوگا،اس لئے کہ ”تراب الصواغین “ سے مراد وہ راکھ/ مٹی ہے جس میں سونے چاندی کے موجود ذرات ان سوناروں کے خریدے گئے سونے چاندی سے الگ ہوکر جمع ہوجاتے ہیں،جبکہ رکاز (معادن ) اس کو کہا جاتا ہے جو اللہ تبارک وتعالی نے خلقۃ ً زمین میں پیدا فرمائی ہے،لہذا دونوں ایک طرح قرار دینا درست نہیں، بلکہ دونوں کے احکام الگ الگ ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: وأما المعدن فالخارج منه في الأصل نوعان: مستجسد ومائع، والمستجسد منه نوعان أيضا: نوع يذوب بالإذابة وينطبع بالحلية كالذهب والفضة والحديد والرصاص والنحاس ونحو ذلك، ونوع لا يذوب بالإذابة كالياقوت والبلور والعقيق والزمرد والفيروزج والكحل والمغرة والزرنيخ والجص والنورة ونحوها، والمائع نوع آخر كالنفط والقار ونحو ذلك وكل ذلك لا يخلو إما أن وجده في دار الإسلام، أو في دار الحرب في أرض مملوكة، أو غير مملوكة فإن وجد في دار الإسلام في أرض غير مملوكة فالموجود مما يذوب بالإذابة وينطبع بالحلية يجب فيه الخمس سواء كان ذلك من الذهب، والفضة، أو غيرهما مما يذوب بالإذابة وسواء كان قليلا، أو كثيرا فأربعة أخماسه للواجد كائنا من كان (إلی قولہ) وأما عندنا فالواجب خمس الغنيمة في الكل لا يشترط في شيء منه شرائط الزكاة ويجوز دفعه إلى الوالدين، والمولودين الفقراء كما في الغنائم ويجوز للواجد أن يصرف إلى نفسه إذا كان محتاجا ولا تغنيه الأربعة الأخماس (إلی قولہ) فأما إذا وجده في أرض مملوكة، أو دار، أو منزل، أو حانوت فلا خلاف في أن الأربعة الأخماس لصاحب الملك وحده، أو غيره؛ لأن المعدن من توابع الأرض؛ لأنه من أجزائها خلق فيها ومنها (إلی قولہ) ولو تصدق بالخمس بنفسه على الفقراء ولم يدفعها إلى السلطان جاز ولا يؤخذ منه ثانيا بخلاف زكاة السوائم، والعشر والله أعلم إلخ(کتاب الزکاۃ، فصل حکم المستخرج من الأرض، ج: 2، ص: 67۔68، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفیہ أیضاً: وفی بدائع الصنائع: وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم، وماله خطر العدم كبيع نتاج النتاج بأن قال: بعت ولد ولد هذه الناقة وكذا بيع الحمل؛ لأنه إن باع الولد فهو بيع المعدوم، وإن باع الحمل فله خطر المعدوم، وكذا بيع اللبن في الضرع؛ لأنه له خطر لاحتمال انتفاخ الضرع إلخ(کتاب البیوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، ج: 5، ص: 138، ط: دارالکتب العلمیۃ)۔
وفی الدر المختار: وشرطھا کون الأجرۃ والمنفعۃ معلومتین لأن جھالتھما تفضی إلی المنازعۃ إلخ(کتاب الإجارۃ، ج: 6، ص: 5، ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (وحکم الأول) وھو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمی معلوما ابن کمال (بخلاف الثانی) وھو الباطل فإنہ لاأجر فیہ (إلی قولہ) (تفسد الإجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ما أفسد البیع) مما مر (یفسدھا) کجھالۃ ماجور أو أجرۃ أو مدۃ أو عمل (إلی قولہ) (و) تفسد أیضا (بالشیوع) بأن یؤجر نصیبا من دارہ أو نصیبہ من دار مشترکۃ من غیر شریکہ أو من أحد شریکہ إلخ۔
وفی الرد تحت: (قولہ وجوب أجر المثل) أی أجر شخص مماثل لہ فی ذلک العمل، والاعتبار فیہ لزمان الاستئجار ومکانہ من جنس الدراھم والدنانیر لا من جنس المسمی لو کان غیرھما، ولو اختلف أجر المثل بین الناس فالوسط إلخ(کتاب الإجارۃ، ج: 6، ص: 45۔46، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: صورة ‌قفيز ‌الطحان أن يستأجر الرجل من آخر ثورا ليطحن به الحنطة على أن يكون لصاحبها قفيز من دقيقها أو يستأجر إنسانا ليطحن له الحنطة بنصف دقيقها أو ثلثه أو ما أشبه ذلك فذلك فاسد والحيلة في ذلك لمن أراد الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزا من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة أو يشترط ربع هذه الحنطة من الدقيق الجيد لأن الدقيق إذا لم يكن مضافا إلى حنطة بعينها يجب في الذمة والأجر كما يجوز أن يكون مشارا إليه يجوز أن يكون دينا في الذمة ثم إذا جاز يجوز أن يعطيه ربع دقيق هذه الحنطة إن شاء. كذا في المحيط إلخ(کتاب الإجارۃ، الفصل الثالث في ‌قفيز ‌الطحان وما هو في معناه، ج: 4، ص: 444، ط: ماجدیۃ)۔
وفی کتاب الخراج لأبی یوسف: ولا يحسب لمن استخرج ذلك من نفقته عليه شيء قد تكون النفقة تستغرق ذلك كله؛ فلا يجب إذن فيه ‌خمس عليه، وفيه الخمس حين يفرغ من تصفيته قليلا كان أو كثيرا ولا يحسب له من نفقته شيء إلخ(‌‌باب في قسمة الغنائم إذا أصيبت من العدو، خمس المعادن، ص: 56۔57، ط: دار السلام)۔
وفی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: تراب الصاغة: مركب إضافي يتكون من كلمتين، وهما، تراب: والصاغة،(إلی قولہ) وتراب الصاغة - كما عرفه المالكية - هو الرماد (الذي يوجد في حوانيتهم) ولا يدرى ما فيه (إلی قولہ) وأما المعادن فهي: جمع معدن بكسر الدال، والمعدن - كما قال الليث: مكان كل شيء يكون فيه أصله ومبدؤه كمعدن الذهب والفضة وأما عند الفقهاء، فهو كما عرفه الزيلعي: اسم لما يكون في الأرض خلقة، بخلاف الركاز والكنز؛ إذ الكنز اسم لمدفون العباد، والركاز اسم لما يكون في الأرض خلقة، أو بدفن العباد إلخ(ج: 11، ص: 145، ط: دارالسلاسل الکویت)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89207کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مشترکہ رقم سے ،کسی ایک شریک کا اپنے مہمان کو کھانا کھلانا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروبار میں شرکت کا صحیح طریقہ

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 7
  • مکان میں کسی کو شریک کرنے کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • شریک کے لیے تنخواہ مقررکرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 3
  • مضاربت کے مختلف مسائل

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • شریکین میں منافع کی تقسیم کا طریقہ

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • معاضہ طے کئے بغیر کسی کے کاروبار میں محنت کرنے والے کا حصہ کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک ٹرم سرٹیفیکیٹ کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان ماہانہ مضاربہ منافع کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں انویسٹمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری شرکت میں نقصان سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک میں انویسٹمنٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری شرکت کے اصول

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں انویسمنٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • تکافل کمپنیوں کی پالیسی لینے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • اسمارٹ نامی کمپنی میں انویسمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • تکافل لائف انشورنس کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   شرکت و مضاربت 0
  • وراثتی کاروبار سے کسی ایک وارث کی شرکت ختم کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • بلڈرز کے ساتھ انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
Related Topics متعلقه موضوعات