سود

حلال منافع کمانے کے طریقہ اور بہن بھائیوں میں شرعی احتیاطیں کیا ہیں؟

فتوی نمبر :
89215
| تاریخ :
2025-11-27
معاملات / مالی معاوضات / سود

حلال منافع کمانے کے طریقہ اور بہن بھائیوں میں شرعی احتیاطیں کیا ہیں؟

سود کے بغیر حلال منافع کمانے کے طریقے کون سے ہیں ؟ تفصیل سے بیان فرما دیں۔ یہ بھی بتادیں کہ نا بالغ او ر بالغ بہن بھائیوں گے درمیان کونسی شرعی احتیاطیں ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سود کے بغیر نفع کمانے اور ذریعہ آمدن کے وہ تمام طریقے اختیار کئے جا سکتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے بیان فرمائے ہيں اور ان میں کوئی شرعی خرابی نہ پائی جاتی ہو، جیسا کہ کوئی بھی جائز اور حلال کاروبار اور نوکری وغیرہ، جبکہ سوال کے دوسرے جز میں سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کس قسم کی احتیاط کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے، تاہم عمومی احتیاط یہی ہے کہ جب بچے دس سال کو پہنچ جائیں تو ان کا بستر الگ کر دیا جائے اور ان کے درمیان ایسا اختلاط نہ ہو جو کسی فتنہ کا باعث بنے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في القرآن الكريم: ﴿وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ﴾ [البقرة: 275]
وفي مسند أحمد: عن جميع بن عمير، عن خاله قال: سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن ‌أفضل ‌الكسب؟ فقال: " بيع مبرور، وعمل الرجل بيده ". [مسند أبي بردة بن نيار، ج:25 ص:157 ط: الرسالة)]
وفي الدر المختار: ‌‌كتاب المضاربة(هي) لغة مفاعلة من الضرب في الأرض وهو السير فيها وشرعا (عقد شركة في الربح بمال من جانب) رب المال (وعمل من جانب) المضارب. [(5/ 645)]
وفي رد المحتار: (قوله من جانب المضارب) قيد به؛ لأنه لو اشترط رب المال أن يعمل مع المضارب فسدت كما سيصرح به المصنف في باب المضارب يضارب، وكذا تفسد لو أخذ المال من المضارب بلا أمره، وباع واشترى به إلا إذا صار المال عروضا فلا تفسد لو أخذه من المضارب. [(5/ 646)]
وفي الجوهرة النيرة: الشركة في اللغة هي الخلطة، وفي الشرع عبارة عن عقد بين المتشاركين في الأصل والربح. [(1/ 285)]
وفي الفتاوى الهندية: المرابحة بيع بمثل الثمن الأول وزيادة ربح. [(3/ 160)]
وفي الدر المختار: وإذا بلغ الصبي أو الصبية عشر سنين يجب التفريق بينهما بين أخيه وأخته وأمه وأبيه في المضجع لقوله عليه الصلاة والسلام «وفرقوا بينهم في المضاجع وهم أبناء عشر» وفي النتف إذا بلغوا ستا كذا في المجتبى. [(6/ 382)]
وفي رد المحتار: تحت (قوله: بين أخيه وأخته وأمه وأبيه) (إلى قوله) وفي البزازية: إذا بلغ الصبي عشرا لا ينام مع أمه وأخته وامرأة إلا بامرأته أو جاريته اهـ فالمراد التفريق بينهما عند النوم خوفا من الوقوع في المحذور، فإن الولد إذا بلغ عشرا عقل الجماع ولا ديانة له ترده، فربما وقع على أخته أو أمه، فإن النوم وقت راحة مهيج للشهوة وترتفع فيه الثياب عن العورة من الفريقين، فيؤدي إلى المحظور وإلى المضاجعة المحرمة، خصوصا في أبناء هذا الزمان فإنهم يعرفون الفسق أكثر من الكبار (إلى قوله) وكذا لا يترك الصبي ينام مع رجل أو امرأة أجنبيين خوفا من الفتنة، ولا سيما إذا كان صبيحا، فإنه وإن لم يحصل في تلك النومة شيء، فيتعلق به قلب الرجل أو المرأة، فتحصل الفتنة بعد حين، فلله در هذا الشرع الطاهر، فقد حسم مادة الفساد، ومن لم يحط في الأمور يقع في المحذور، وفي المثل: لا تسلم الجرة في كل مرة)". (كتاب الحظر والإباحة، ‌‌باب الاستبراء وغيره، ج: ٦، ص: ۳۸۲، ط: ايچ ايم سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89215کی تصدیق کریں
1     97
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات