السلام علیکم! مفتی صاحب!ایک شخص کی ۳ سال یا اس سے زیادہ کی نمازیں قضاء ہوئی ہیں، اب وہ توبہ تائب ہو کر ان کی قضاء کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کا کوئی طریقہ ہے؟ اسی طرح قضاء روزےاور سجدہ تلاوت ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ اگر اس شخص کو اپنی نمازیں، روزے اور سجدہ تلاوت کا صحیح طرح معلوم نہ ہو کہ کتنے دن یا سال کے فرض و واجبات ادا کرنی ہیں تو ایسے میں وہ کیا کرے؟
قضاء عبادات کی ادائیگی کا کوئی مخصوص طریقہ منقول نہیں اور نہ ہی ان کی ادائیگی کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص ہے، بلکہ اوقاتِ مکروہ اور ایامِ ممنوعہ کے علاوہ جب چاہیں نماز و رزوہ کی قضاء کر سکتے ہیں، جبکہ قضاء نمازوں کی ادائیگی کا طریقہ آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر وقتی نماز کے ساتھ اسی وقت کی ایک یا جتنی ممکن ہوں قضاء نمازیں ادا کر لی جائیں اور اگر قضاء نمازوں کی تعداد یاد نہ ہو تو ایک محتاط اندازہ کے مطابق نمازیں ادا کرتے رہیں اور جب یقین ہو جائے کہ قضاء نمازیں مکمل ہو گئی ہوں گی تو ادائیگی ترک کر دیں، مگر قضاء نمازوں میں ترتیب لازمی ہے، اس لیے ان کی نیت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً اگرفجر کی نماز ادا کرنی ہو تو اس طرح نیت کریں کہ میرے ذمّہ فجر کی جو پہلی نماز لازم ہے اس کی نیت کرتا ہوں، اسی طرح ہر نماز میں کہتے رہیں، چنانچہ روزوں اور سجدہ تلاوت کی ایک محتاط مقدار کے موافق پہلے روزہ اور سجدہ تلاوت یا آخری کی نیت سے ادا کرنا شروع کر دے یہا تک کہ غالب گمان ہو جائے کہ قضاء شدہ کی تعداد پوری ہو گئی ہے تو اس کے بعد ترک کر دے۔ ہے جو ادا نمازوں کا ہے، البتہ اگر قضاء نمازوں کی تعداد چھ سے کم ہو پھر ترتیب ضروری ہے ورنہ نہیں۔
ففی الدر المختار: كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره اھ(2/ 76)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول أول فجر مثلا، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخرا، ولا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة الفوائت. (2/ 76)
وفی الدر المختار: وجميع أوقات العمر وقت للقضاء إلا الثلاثة المنهية (2/ 66)
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله إلا الثلاثة المنهية) وهي الطلوع والاستواء والغروب اھ(2/ 66)