محترم حضرت! بعد از سلام مؤدبانہ عرض ہے کہ میں آپ کی خدمت میں ایک شرعی مسئلہ کے بارے میں رہنمائی اور فتویٰ درکار ہونے کی غرض سے یہ درخواست پیش کر رہا ہوں۔ میری شادی انجام پائی۔ بعد ازاں میری اہلیہ نے عدالت میں خلع کا مقدمہ دائر کیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ اہلیہ کو حقِ مہر کا 25 فیصد واپس کرنے کی شرط پر خلع دیا جاتا ہے۔ تاہم عملی صورتِ حال یہ ہے کہ میری اہلیہ نے حقِ مہر کا 25 فیصد ادا کیے بغیر یونین کونسل سے خلع کا يكطرفہ سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا۔ اس پس منظر میں میرا شرعی سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں، جبکہ عدالت کی مقرر کردہ شرط (حقِ مہر کا 25 فیصد واپس کرنا) پوری نہیں کی گئی، خلع شرعاً واقع ہو چکا ہے یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے پر تفصیلی اور واضح شرعی رہنمائی فرما دیں تاکہ میں اپنے عمل کو شریعت کے مطابق درست کر سکوں۔ آپ کی قیمتی رہنمائی کا منتظر ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
صورت مسئولہ میں اگر خلع کے فیصلہ پر سائل یا اس کی جانب سے مقرر کردہ وکیل نے منہ زبانی یا تحریری طور پر رضامندی کا اظہار کر دیا ہو، تو شرعاً یہ خلع معتبر ہو کر عورت پر حق مہر کا پچیس فیصد شوہر کو دینا لازم ہوگا، یونین کونسل سے خلع کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر کے شوہر کو مقرر کردہ عوض سے محروم کرنا شرعاً درست طرزِ عمل نہیں، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ عوض ادا کر کے مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوشی حاصل کر لے وگرنہ سائل کو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق بھی حاصل ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول الخ۔(کتاب الطلاق،باب الخلع،ج:3،ص:441،ط:سعید)۔
وفی المبسوط للسرخسي:(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض اھ(6/173)
فی الفتاوى الهندية: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية(الی قولہ) وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان الخ (ج1 ص488 کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع ط: ماجدیۃ)۔
وفی تبیین الحقائق: ولا بد من قبولها؛ لأنه عقد معاوضة أو تعليق بشرط فلا تنعقد المعاوضة بدون القبول، ولأن المعلق ينزل بدون الشرط إذ لا ولاية لأحدهما في إلزام صاحبه بدون رضاه والطلاق بائن؛ لأنها ما التزمت المال إلا لتسلم لها نفسها وذلك بالبينونة الخ۔ (کتاب الطلاق،باب الخلع،ج:2،ص:271،ط:دار الکتاب الاسلامی)۔
وفی المبسوط للسرخسی: ولأن النكاح عقد محتمل للفسخ حتى يفسخ بخيار عدم الكفاءة، وخيار العتق، وخيار البلوغ عندكم فيحتمل الفسخ بالتراضي أيضا، وذلك بالخلع، واعتبر هذه المعاوضة المحتملة للفسخ بالبيع والشراء في جواز فسخها بالتراضي الخ۔ (کتاب الطلاق ،باب الخلع،ج:6 ،ص:171،ط:دار المعرفة)۔