السلام علیکم
تقریباً دو سال پہلے میرا نکاح میرے کزن سے ہوا جو کہ الگ شہر میں رہتا ہے۔ نکاح کے بعد کئی دن میں اس کے گھر میں رہی لیکن رخصتی نہیں ہوئی۔ ہم ایک ہی کمرے میں سوتے تھے لیکن, سب لوگوں کے درمیان۔ مطلب میں اس کی بہنوں کے ساتھ ایک طرف اور وہ اسی کمرے میں دوسری طرف۔ اس طرح اکثر وہ میرے قریب آجاتا تھا لیکن چونکہ لوگ ہوتے تھے تو ہمبستری نہیں ہوئی۔ لیکن وہ باقی سب کر لیتا تھا۔
اس کے بعد ایک بار وہ میرے گھر آیا تو اس نے اکیلے ملنے کی ضد کی۔ ہم میری بہن کے گھر پر ملے۔ لیکن ہم ہمبستری کی نیت سے نہیں ملے۔ اس نے وہاں مجھے برہنہ کیا اس کا کہنا تھا کہ وہ صرف میرا جسم دیکھنا چاہتا ہے, لیکن ہم نے کچھ ایسا نہیں کیا کیونکہ میں راضی نہیں تھی۔
میری بہن تب اپنے شوہر کے ساتھ اکیلے گھر پر رہتی تھی اور اس نے ہمیں اکیلے ملنے کیلیے اپنا گھر دیا۔ تب وہاں کوئی نہیں تھا ہم بالکل اکیلے تھے۔ لیکن ہمارا کوئی جنسی تعلق نہیں بنا۔
اب میں اپنے شوہر سے خلع لینا چاہتی ہوں۔ ہماری رخصتی نہیں ہوئی لیکن یہ سب ہوا ہے۔ جنسی تعلق کے علاوہ۔ تو اب حق مہر اور عدت کا کیا حکم ہے؟ میں جاب کرتی ہوں تو اس حساب سے عدت کی رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسؤلہ میں نکاح کے بعد اپنی بہن کے گھر شوہر سے ملاقات کےدوران اگروہ حالت حیض میں نہ ہو بلکہ محض طبعی طور پراپنے شوہر کو ازدواجی تعلق قائم کرنے سے روکا ہو تو ایسی صورت میں انہوں نے اگرچہ ازدواجی تعلق قائم نہ کیاہو مگر دونوں کے درمیان خلوتِ صحیحہ کا تحقق ہو چکاہے،اب اگر سائلہ باقاعدہ اپنے شوہر کی رضامندی سے خلع لےلے تو سائلہ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر میان بیوی کا نکاح ختم ہو جا ئے گا ، اور سائلہ پر اس طلاق کی عدت (چونکہ صورت مسؤلہ میں تیں ماہواریاں ہیں )گزارنی لازم ہو گی ،نیز دورانِ عدت سائلہ کے لئے گھرسے ملازمت کی خاطر باہر نکلنا جائز نہ ہو گا لہذا ادارہ کو عذر بیان کرکے رخصت لینا لازم ہو گا ، البتہ اگر اس دوران سائلہ کے نان نفقہ اخراجات اٹھانے والا کوئی نہ ہو اور نہ ہی شوہر عدت کا خرچہ دینے کےلئے آمادہ ہو ،تو ایسی مجبوری کی صورت یں سائلہ کے لئے دن کے وقت ملازمت کے لئے نکلنے کی گنجائش ہو گی ، لیکن رات کو گھر واپس لوٹنا لازم ہو گا، جبکہ شوہر پر مقرر شدہ پورےمہر کی ادائیگی بھی لازم ہو گی لیکن اگر یہ خلع حق مہر کے عوض لیا جائےہو تو شوہر سے حق مہر کی ادائیگی ساقط ہوجائے گی۔
وفی قو لہ تعالی فان خفتم ان لا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فی ما افتدت بہ ( سورۃ البقرہ 229 )
کمافي الدر المختار:(ولا تخرج معتدة رجعي وبائن) بأي فرقة كانت على ما في الظهيرية ولو مختلعة على نفقة عدتها في الأصح اختيار اھ (3/ 535)۔
وفي حاشية ابن عابدين: تحت (قوله: في الأصح) (إلی قوله) قال في الفتح: والحق أن على المفتي أن ينظر في خصوص الوقائع، فإن علم في واقعة عجز هذه المختلعة عن المعيشة إن لم تخرج أفتاها بالحل، وإن علم قدرتها أفتاها بالحرمة اهـ (3/ 535)
وفی الفتاوی الھندیۃ رجل اذا تزوج امراۃ نکاحا فطلقہا بعد الدخول او بعد الخلوۃ الصحیحۃ کان علیہا العدۃ ( ج: 1 ص : 526 ناشر : ماجیدیۃ )
وفیہ ایضا المہر یتاکد باحد معان ثلاث الدخول والخلوة الصحيحة وموت احد الزوجين ( ج :١ ص ٣٠٣ ناشر ماجيديه)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0