شرکت و مضاربت

انویسٹر کو اعتماد میں لئے بغیر کمیشن لینا

فتوی نمبر :
90396
| تاریخ :
2025-12-30
معاملات / مالی معاوضات / شرکت و مضاربت

انویسٹر کو اعتماد میں لئے بغیر کمیشن لینا

حضرت! آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
یہ معاملہ میرے اور میرے ایک دوست کے درمیان پیش آیا۔تمام سرمایہ کاری میری طرف سے تھی، جبکہ گاڑی خریدنے اور بعد ازاں فروخت کرنے کی ذمہ داری میرے دوست پر تھی۔ نفع یا نقصان کی صورت میں باہمی طور پر یہ طے ہوا تھا کہ 60٪ حصہ میرے دوست کا اور 40٪ حصہ میرا ہوگا۔ یہ تمام شرائط گاڑی خریدنے سے پہلے طے ہو چکی تھیں۔
پہلی انویسمنٹ (کفیل والا معاملہ)
ہم نے نیلامی سے گاڑی خریدی۔ یہ بھی واضح رہے کہ جس آکشن/نیلامی سے گاڑیاں خریدی جاتی ہیں، وہاں کفیل کا اکاؤنٹ استعمال ہوتا ہے۔ میرے دوست کے مطابق بڑی گاڑیاں (جیسے لینڈ کروزر، پرادو وغیرہ) عام طور پر کفیل خود خریدتا ہے۔ جبکہ یہ لوگ عموماً چھوٹی گاڑیوں میں ڈیل کرتے ہیں۔ کفیل ان سے نہ کفالت کے پیسے لیتا ہے، نہ کوئی ماہانہ معاوضہ، نہ کوئی طے شدہ کمیشن۔
میرے دوست کا موقف یہ ہے کہ چونکہ کفیل بغیر کسی باقاعدہ معاوضے کے اپنا اکاؤنٹ استعمال کرنے دیتا ہے، اس لیے جب کبھی کسی گاڑی میں اچھا مارجن یا اچھا منافع نکل آئے تو وہ اپنی طرف سے کفیل کو 50 سے 100 دینار (غیر طے شدہ رقم) دے دیتا ہے تاکہ کفیل خوش رہے۔میرے دوست کے مطابق اگر کفیل خوش رہے گا تو مستقبل میں آکشن کے ذریعے گاڑیوں کا یہ کاروبار آسانی سے اور بغیر رکاوٹ کے چلتا رہے گا۔ اگر کفیل کو خوش نہ رکھا جائے تو وہ ناراض ہو سکتا ہے، گاڑیوں سے منع بھی کر سکتا ہے، یا پھر آئندہ ہر گاڑی میں سے باقاعدہ پروفٹ مانگنے کی شرط لگا سکتا ہے۔ اسی خدشے کی بنیاد پر وہ کفیل کو کبھی کبھار اچھی گاڑی میں سے رقم دینا کاروباری ضرورت سمجھتا ہے۔اہم نکتہ یہ ہے کہ کفیل کو رقم دینے کا یہ معاملہ مجھے گاڑی خریدنے کے بعد بتایا گیا۔ گاڑی خریدنے سے پہلے اس بارے میں کوئی شرط یا باہمی اتفاق موجود نہیں تھا۔ میں نے اس معاملے کو الجھانے کے بجائے رفع دفع کر دیا، نہ واضح اجازت دی اور نہ صریح انکار کیا۔ نتیجتاً 100 دینار کفیل کو دیے گئے اور باقی منافع ٪60 اور ٪ 40 کے حساب سے تقسیم کر لیا گیا۔
دوسری انویسمنٹ:
بعد میں دوسری انویسمنٹ کی گئی، جس میں گاڑی نیلامی کے بجائے ایک پرائیویٹ شخص سے خریدی گئی اور گاڑی میرے دوست نے خود فروخت کی۔اس دوسری انویسمنٹ سے پہلے میرے دوست نے مجھے واضح طور پر بتایا تھا کہ اگر وہ خود یا اس کے والد صاحب گاڑی سیل کریں گے تو کوئی کمیشن نہیں لیا جائے گا۔ اگر کوئی تیسرا شخص انوالو ہوگا تو اسے کمیشن دیا جائے گا۔میں نے اس شرط سے اتفاق کیا تھا۔لیکن گاڑی فروخت ہونے کے بعد میرے دوست نے کہا کہ چونکہ گاڑی اس نے خود سیل کی ہے، اس لیے اس کی 25 دینار کمیشن بنتی ہے۔میں نے اس پر اعتراض کیا کہ مسئلہ 25 دینار کا نہیں بلکہ اصول کا ہے۔ پہلی انویسمنٹ میں بھی کفیل کو پیسے دینے کا معاملہ بعد میں بتایا گیا تھا۔ اب دوسری انویسمنٹ میں بھی انویسمنٹ کے بعد نئی کٹوتی کی بات کی جا رہی ہے۔ ایسی صورت میں ٪60 اور٪ 40 کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے، کیونکہ فیصلے یکطرفہ طور پر بعد میں بدل رہے ہیں۔
بحث کے بعد، حساب کتاب کے وقت میرے دوست نے دوسری انویسمنٹ میں 25 دینار کمیشن تو نہیں کاٹے، لیکن پہلی انویسمنٹ میں کفیل کو دی گئی رقم برقرار رکھی گئی۔
اب میرے بنیادی سوالات یہ ہیں:
1. شرعی اور اخلاقی اعتبار سے، کیا کفیل کو دی گئی رقم (جو پہلے سے طے شدہ نہیں تھی) مشترکہ منافع میں سے دی جا سکتی تھی؟
2. یا یہ رقم صرف میرے دوست کو اپنے 60٪ حصے میں سے دینی چاہئیے تھی، کیونکہ کفیل اس کا ہے، اکاؤنٹ اس کا استعمال ہو رہا ہے، اور فیصلہ اس نے خود بعد میں کیا؟
3. کیا مستقبل کے کاروبار کے خدشے (کفیل ناراض ہو جائے گا) کی بنیاد پر، انویسٹر کو اعتماد میں لیے بغیر مشترکہ پروفٹ میں کٹوتی جائز ہے؟
4. دوسری انویسمنٹ میں، جب پہلے ہی طے ہو چکا تھا کہ خود سیل کرنے کی صورت میں کمیشن نہیں ہوگا، تو بعد میں کمیشن مانگنا شرعاً و اخلاقاً درست تھا یا نہیں؟
5. مجموعی طور پر، کیا کسی بھی قسم کی اضافی ادائیگی یا کٹوتی ایسی صورت میں جائز ہے جو انویسمنٹ کے بعد طے کی جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سائل اور اس کے دوست کے درمیان طے ہونے والا سوال میں مذکور معاملہ شرعاً مضاربت کہلاتا ہے ۔مذکور معاملہ میں سائل رب المال (سرمایہ فراہم کنندہ )ور اس کا دوست مضارب( خدمات اور محنت کنندہ )بنتے ہیں ۔پھر مضاربت میں مضارب کے لیے منافع میں سے جو تناسب طے ہو جاتا ہے وہی اس کے تمام خدمات کی اجرت اور معاوضہ ہوتا ہے اس دوران کسی کام پر الگ اجرت یا کمیشن کا وہ مستحق نہیں ہوتا، اسی طرح دورانِ کاروبار ہونے والے واقعی اخراجات نیز کاروباری لوگوں میں رائج اور معروف اخراجات یہ سب مالِ مضاربت یعنی جمیع سرمائے سے ادا کیے جائیں گے ۔چنانچہ صورتِ مسئولہ میں دوسری انویسٹمنٹ میں سائل کے دوست کا الگ سے کمیشن کا مطالبہ درست نہ تھا جس سے وہ اب دستبردار ہو گئے ہیں لیکن پہلی انویسٹمنٹ میں بھی جب کفیل نے اس سے کمیشن نہیں مانگی تھی اور بغیر کمیشن کے ہی وہ معاملہ چلاتا آ رہا تھا تو محض مستقبل کے خدشات کی بنا پر سائل کے دوست کا اپنے کفیل کو کمیشن دینا اس کا ذاتی عمل اور تبرع( رضاکارانہ عمل) شمار ہوگا اور اس کو اسی کے حصے میں سے منہا کیا جائے گا لہذا سائل کے دوست کے لیے شرعاًجائز نہیں کہ کفیل کو دیے گئے پیسوں کا بوجھ بھی سائل پر ڈالے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس مطالبہ سے دستبردار ہو جائے اور سائل کو اس کا پورا حق ادا کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایۃ: قال: "‌المضاربة ‌عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين" ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين "والعمل من الجانب الآخر" ولا مضاربة بدونها؛ ألا ترى أن الربح لو شرط كله لرب المال كان بضاعة، ولو شرط جميعه للمضارب كان قرضاقال: "ولا تصح إلا بالمال الذي تصح بهالشركة"وقدتقدم بيانه منقبل،(ج :3،ص:1381،مط:مکتبۃ اللبشری)
وفی الدر المختار: (وشرطها) أمور سبعة (كون رأس المال من الأثمان) كما مر في الشركة وهو معلوم للعاقدين (وكفت فيه الإشارة) والقول في قدره وصفته للمضارب بيمينه، والبينة للمالك.(الی قولہ) وكون رأس المال عينا لا دينا) كما بسطه في الدرر (وكونه مسلما إلى المضارب) ليمكنه التصرف (بخلاف الشركة) ؛ لأن العمل فيهما من الجانبين (وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد.ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة۔ (ج:5،ص:647، مط :ایچ ایم سعید)
وفی بدئع الصنایع: ‌وتصرف ‌المضارب مبني على عادة التجار
(ج:6، ص:88، مط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً:وجعل المال فی یدہ امانۃ کما فی المضاربۃ الصحیحۃ وذکر الطحاوی فیہ اختلافاًوقال لا ضمان علیہ فی قول ابی حنیفۃؒ وعندھما یضمن کما فی اجیر المشترک اذا ھلک المال فی یدہ۔(ج:6،ص؛108، مط :ایچ ایم سعید)
وفی شرح مجلۃ الاحکام: إذا تلف مقدار من مال المضاربة فيحسب في بادئ الأمر من الربح ولا يسري إلى رأس المال ، وإذا تجاوز مقدار الربح وسرى إلى رأس المال فلا يضمنه المضارب سواء كانت المضاربة صحيحة أو فاسدة.(المادۃ:1428)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90396کی تصدیق کریں
0     303
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مشترکہ رقم سے ،کسی ایک شریک کا اپنے مہمان کو کھانا کھلانا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروبار میں شرکت کا صحیح طریقہ

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 6
  • شریک کے لیے تنخواہ مقررکرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 3
  • مکان میں کسی کو شریک کرنے کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • شریکین میں منافع کی تقسیم کا طریقہ

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • مضاربت کے مختلف مسائل

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • معاضہ طے کئے بغیر کسی کے کاروبار میں محنت کرنے والے کا حصہ کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک ٹرم سرٹیفیکیٹ کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان ماہانہ مضاربہ منافع کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں انویسٹمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری شرکت میں نقصان سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک میں انویسٹمنٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری شرکت کے اصول

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں انویسمنٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • تکافل کمپنیوں کی پالیسی لینے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • اسمارٹ نامی کمپنی میں انویسمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • تکافل لائف انشورنس کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   شرکت و مضاربت 0
  • وراثتی کاروبار سے کسی ایک وارث کی شرکت ختم کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • بلڈرز کے ساتھ انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
Related Topics متعلقه موضوعات