فرض کریں ایک شخص کے پاس ایک پلاٹ ہے، اور اس کے چار بیٹوں میں سے ایک بیٹا (بیٹا A) اس پلاٹ پر مکان تعمیر کرواتا ہے اور تعمیر کے تمام اخراجات خود برداشت کرتا ہے، اس کے بعد بیٹا A اور والد اس مکان میں بیس (20) سال تک اکٹھے رہتے ہیں، پھر والد کا انتقال ہو جاتا ہے، اب والد کی جائیداد کی وراثت تقسیم کرتے وقت یہ مکان چاروں بیٹوں میں کس طرح تقسیم ہوگا؟کیا بیٹا A کو تعمیر پر خرچ کی گئی رقم کے بدلے اس کا حصہ دیا جائے گا، یا یہ مکان چاروں بیٹوں میں برابر تقسیم ہوگا؟اور اگر بیٹا A کو تعمیر کے بدلے رقم دی جاتی ہے تو کیا وہ رقم اتنی ہی ہوگی جتنی اس نے ابتدا میں خرچ کی تھی، یا بیس سال کی مدت کے بعد اس کی قیمت (گھٹاؤ ) کے حساب سے دی جائے گی؟
صورتِ مسئولہ میں اگر پلاٹ والد کی ملکیت تھا اور بیٹے (A) نے والد کی اجازت سے اپنے ذاتی خرچ سے اس پر مکان تعمیر کیاہو، تو اصل زمین بدستور والد کی ملکیت شمار ہوگی، جبکہ تعمیر کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر بیٹے نےمشترکہ رہائش کیلئے تعمیرپرخرچ کی جانے والی رقم بطورقرض یا واپسی کی صراحت کے ساتھ لگائی ہو،توایسی صورت میں والدکی وفات کےوقت مکان کی موجودہ قیمت میں سے خرچ کردہ رقم منھا کرکے اس بیٹے کو دی جائے گی، اس کے بعد بقیہ رقم تمام ورثاء میں حسب حصص تقسیم ہوگی،البتہ اگر بیٹے نےپلاٹ کی تعمیر پررقم خرچ کرتے وقت قرض یا واپسی کی صراحت نہ کی ہو،تومذکورتعمیری خرچ اس کی طرف سے والدکے حق میں تبرع و احسان سمجھا جائےگا ، اور پوری عمارت والد کا ترکہ شمارکرکے تمام ورثاء میں حسبِ حصص شرعی تقسیم ہوگی۔
کمافی الدر المختار: (عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء اھ۔
وفی ردالمحتار: قوله ( عمر دار زوجته الخ ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين . وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له وله رفعه إلا أن يضر بالبناء فيمنع ولو بنى لرب الأرض بلا أمره ينبغي أن يكون مبترعا كما مر إ ه (الی قولہ) قوله( والنفقة دين عليها ) لأنه غير متطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين، زيلعي، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع، وفي المسألة اختلاف وتمامه في حاشية الرملي على جامع الفصولين قوله ( فالعمارة له ) هذا لو الآلة كلها له فلو بعضها له وبعضها لها فهي بينهما ط عن المقدسي قوله ( بلا إذنها ) فلو بإذنها تكون عارية ط.(کتاب الخنثی،ج:6،ص:747،ط:سعید)
وفی تنقیح الفتاوی الحامدیة: (سئل) في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه وعن ورثة غيره فهل يكون القصر لبانيه ويكون كالمستعير؟
(الجواب) : نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ ومسألة العمارة كثيرة ذكرها في الفصول العمادية والفصولين وغيرها وعبارة المحشي بعد قوله ويكون كالمستعير فيكلف قلعه متى شاء
(کتاب العاریۃ، ج:2، ص:81، م:دارالمعرفۃ)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0