السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امید ہے آپ خیرت سے ہوں گے۔ میں سید نسب کے دعوے اور نسب انتساب اور زکوۃ سے متعلق اسلامی احکام کے بارے میں وضاحت طلب کرنا چاہتا ہوں، میرے والد کی طرف سے میرے خاندان نے طویل عرصے سے سید کے نام سے شناخت کی ہے، جو میرے دادا سے شروع ہو کر میرے والد اور ہمارے ذریعے جاری ہے، تاہم کوئی دستاویزی شجرہ نسب دستیاب نہیں ہے ،کچھ رشتہ دار ثبوت رکھنے کا دعوی کرتے ہیں ،لیکن بتانے سے انکار کرتے ہیں میرے والد اور دادا دونوں اب زندہ نہیں ہیں، اس لیے ان کے ذریعے تصدیق ممکن نہیں مزید برا ں ،یہ دعوی کرنے والے افراد قابل اعتبار نہیں ہیں ، جس کی وجہ سے بغیر ثبوت کے ان کے بیانات کو قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے ،میری والدہ کی طرف سے حال ہی میں خاندان میں سید نسب کے اسی طرح کے دعوے سامنے آئے ہیں، لیکن پھر بھی کوئی شجرۂ نسب یا واضح ثبوت موجود نہیں ہے، صرف معاون تفصیل یہ ہے کہ میرے نانا کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ میں عنوان ”سید“شامل ہے اور سرکاری دستاویزات پر میرے دادا کا نام بھی ”سید“ شامل ہے، احادیث میں نسب کو غلط منسوب کرنے کے خلاف سنگین تنبیہ کے پیش نظر، اور چونکہ سید کا درجہ زکوۃ کی اہلیت کو متاثر کرتا ہے، اس لیے میں صحیح طریقے سے عمل کرنے اور کسی غلط کام سے بچنے کے لیے بہت فکرمند ہوں، میرے سوالات یہ ہیں : کیا سید کی شناخت صرف خاندانی دعوؤں کی بنیاد پر یا تصدیق شدہ نسب ریکارڈ کے بغیر دستاویزات پر عنوانات کی بنیاد پر کرنا جائز ہے؟ اگر نسب غیر یقینی ہو تو زکوۃ کے متعلق کیسا عمل کرنا چاہیئے؟ کیا واضح ثبوت کی عدم موجودگی میں غیر سید کا درجہ حاصل کرنا زیادہ محفوظ ہے؟ میں اس معاملے پر آپ کی رہنمائی کی بہت تعریف کروں گا ۔جزاکم اللہ خیرا ً
واضح ہو کہ سید ہونے کا ثبوت شرعاً معتبر اور معروف نسب سے ہوتا ہے، محض خاندانی دعوی یا سرکاری کا عذات میں ”سید“لکھا ہونا یا غیرمصدَّقہ شجرۂ نسب کافی نہیں، جب تک وہ نسب اہل خاندان کی شہرتِ مُستفیضہ( عوام الناس کےزبان زدِ عام ہونا) یا معتبر گواہی سے ثابت نہ ہو، لہذا اگر کسی شخص کا سید ہونا یقینی اور ثابت ہو تو اسے زکوۃ دینا جائز نہیں، اور اگر نسب غیر یقینی ہو اور صرف سید ہونے کا دعوی ہو تو وہ شرعاً عام مسلمان کے حکم میں ہوگا، چنانچہ ایسا شخص اگر مستحق ہو تو اسے زکوۃ دینا جائز ہے البتہ شبہ کی صورت میں احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے زکوۃ کی بجائے نفلی صدقات وغیرہ دینے پر اکتفا کیا جائے ،اسی طرح جس شخص کو اپنے نسب کے سید ہونے کا یقین نہ ہو، وہ خود کو سید کہلانے سے گریز کرے، کیونکہ خود کو غیر نسب کی طرف منسوب کرنا سخت گناہ ہے اور اللہ کے نبیﷺ نے ایسے شخص کو مستحقِ لعنت قرار دیا ہے، چنانچہ خود کو اس گناہ سے بچانافرض ہے۔
کما فی صحیح البخاری: عن سعد رضي الله عنه قال:سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام،باب من ادعی الی غیر ابیہ،رقم الحدیث: 6385،مط: دار ابن کثیر۔)
و فی الھندیہ : في الفتاوى الصغرى الشهادة بالشهرة في النسب وغيره بطريقتين: الحقيقة والحكمية. فالحقيقة أن تشتهر وتسمع من قوم كثير لا يتصور تواطؤهم على الكذب، ولا تشترط في هذه العدالة، ولا لفظ الشهادة بل يشترط التواتر. والحكمية أن يشهد عنده رجلان أو رجل وامرأتان عدول بلفظ الشهادة كذا في الخلاصةاھ،(الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ وحد ادائہا،ج: 3،ص: 458،ط: ماجدیہ ۔)
و فی الموسوعۃ الفقہیۃ : ذهب جمهور الفقهاء إلى أن النسب يثبت بالشهادة بالسماع للضرورة. قال ابن المنذر: أما النسب فلا أعلم أحدا من أهل العلم منع منه، ولو منع ذلك لاستحالت معرفة الشهادة به؛ إذ لا سبيل إلى معرفته قطعا بغيره، ولا تمكن المشاهدة فيه، ولو اعتبرت المشاهدة لما عرف أحد أباه ولا أمه ولا أحدا من أقاربه اھ،أدلۃ ثبوت النسب: ح - السماع:ج: 40، ص: 249،مط: الوزارہ ۔)