کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک غریب اور بیوہ عورت ہوں، میرا ایک چھوٹا بچہ اور ایک چھوٹی بچی ہے اور میں (سیٹھ) مالدار و دولت مندوں کے گھر میں نوکرانی ہوں اور اسی سے اپنا گزر بسر کرتی ہوں ،اب مسئلہ یہ ہے کہ مجھے ان کے لئے کھانا پکانا ، کپڑے دھونا، پوچا لگانا وغیره وغیرہ امور انجام دینے ہوتے ہیں اور ان کے گھر میں غیر محرم آدمی بھی اکثر ہوتے ہیں، جن سے مجھے کثرت سے واسطہ پڑتا ہے کہ کبھی کھانے کے لئے بلاتے ہیں، کبھی پانی کے لئے بلاتے ہیں اور کبھی دوسرے امور کے لئے بلاتے ہیں، اب مجھے پوچھنا یہ ہے کہ ایسی صورت میں میں شرعی پردہ کس طرح کروں؟ ایسی صورت میں تو شرعی پردہ کرنا مجھے ناممکن معلوم ہوتا ہے، از راہِ کرم صورتِ مذکورہ میں شرعی پردہ کرنے کا مجھے آسان طریقہ بتلائیں جس پر میرے لئے عمل کرنا ممکن ہو۔
ایسی صورت میں کام کی ابتداء میں ہی اس کی تصریح کر دینی چاہئیے کہ میں کھانا تیار کرنے ، کپڑے دھونے اور اور محض گھریلو صفائی کی حد تک کام کروں گی، غیر محرموں کو کھانا پیش کرنے جیسے امور جن میں بے پردگی ہوتی ہے انجام نہیں دونگی اور پھر اپنے ذمہ لازم کاموں کو حسبِ استطاعت پردہ شرعی کو ملحوظ رکھتے ہوئے انجام دیا کریں اور اگر بوقت ضرورت شدیدہ گھونگھٹ وغیرہ ڈال کر کسی مہمان کو کھانا پانی وغیرہ دیدیا کریں اور باہم بے تکلفي ہرگز اختیار نہ کریں تو بقدر ضرورت یہ امور بجا لانے کی بھی گنجائش ہے، جبکہ بصورت ممکنہ اپنی نوکری بحال رکھتے ہوئے ان امور سے بھی احتراز بہتر ہے۔
کما في الدر المختار: (وللحرة) ولو خنثى (جميع بدنها) حتى شعرها النازل في الأصح (إلى قوله) وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) اھ (1/ 406)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وتمنع المرأة إلخ) أي تنهى عنه وإن لم يكن عورة (قوله بل لخوف الفتنة) أي الفجور بها قاموس أو الشهوة. والمعنى تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة اھ (1/ 406)۔
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 1غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0