کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ :جو لوگ بینکوں میں رقم رکھ کر اس رقم سے %5 پرسنٹ یا اس سے زیادہ نفع لیتے ہیں جو کہ سود کہلاتا ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ رقم کی زکوۃ کٹتی ہے اس لئے جائز ہے، آیا ان لوگوں کے گھر میں کھانا پینا یا رشتہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟چاہے یہ لوگ کتنے ہی قریبی رشتے دار کیوں نہ ہوں۔
اگر ان لوگوں کی کل یا غالب آمدنی اسی طرح کی حرام ہو تو ان کے گھروں میں کھانا پینا شرعاً ناجائز و حرام اور واجب الاحتراز ہے،جبکہ حلال آمدنی کے غالب ہونے کی صورت میں بھی احتیاط بہتر ہے اور رشتہ کرنے کا بھی یہی حکم ہے ۔
كما في الفتاوى الهندية: ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب وكذا أكل طعامهم كذا في الاختيار شرح المختار اھ (5/ 342) والله اعلم بالصواب
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1