کیا فرماتے ہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء کرام کہ جوان عورت اگر اپنے جوان چچا زاد بھائی ، ماموں زاد بھائی ، پھوپھی زاد بھائی ، خالہ زاد بھائی ، دیور ان لوگوں سے پردہ کے علاوہ کیا بات چیت، ہنسی مذاق یا ان کے ساتھ رکشہ میں بیٹھ کر کہیں جاسکتی ہے یا نہیں؟ ایک جوان عورت اپنے شوہر کے جوان بھانجے میں شوہر کی بہن کا لڑکا اس کے ساتھ رکشے میں بیٹھ کر شادی ہال میں جاتی ہے،رات کو گیارہ بجے رکشے میں بیٹھ کر واپس آتی ہے، سفر تقریباً آنا جانا 12 بارہ میل کا ہے ، آیا اس عورت کو کچھ گناہ ہوا یا نہیں ؟ مہربانی فرما کر فیصلے کا حل لکھ کر بتا ئیں ، عین نوازش ہو گی ۔
۱۔ واضح ہو کہ عورت کے لئے مذکور غیر محارم کے ساتھ ہنسی مزاح یا تنہائی میں بات چیت اور باہم بے تکلفي جائز نہیں،خواتین کو ان امور سے احتراز لازم ہے ، مگر ضروری ہے کہ گھر کے پورے ماحول کی درستگی کی فکر کی جائے اور گھریلو زندگی میں بھی امور شرعیہ کا پورا پورا خیال رکھا جائے ۔
كما في الدر المختار: و في الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام ( الى قوله ) ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا انتهى اھ (6/ 368)
و في الفقه الإسلامي وأدلته: وأما المعاشرة قبل الزواج والذهاب معاً إلى الأماكن العامة وغيرها،فهو كله ممنوع شرعاً اھ (9/ 18)
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 1غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0