میری والدہ کی عمر 60 سال ہے،میری والدہ اپ ڈائمنشیا کی مریضہ ہیں، گھٹنوں میں بھی تکلیف رہتی ہے، پیشاب بھی نہیں کنٹرول کر سکتی، بہت سے ہیلتھ ایشوز ہیں، میرا بھائی اور بھابھی ان کی خدمت کرتے ہیں ،ان کے پاس پیسے کی فراوانی ہے، ان کو پیسے کی اور ملازمین کی کوئی کمی نہیں ہے ، دو کنال کے گھر میں رہتے ہیں ۔جبکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ میں والدہ کو اپنے پاس مستقل رکھ لوں، لیکن میرے شوہر اس بات کے لیے نہیں مانتے اور میں اپنے شوہر کو چھوڑ کر اپنی والدہ کے گھر نہیں رہ سکتی، کیونکہ ان کی اجازت نہیں ہے ،اس سے میرا گھر ڈسٹرب ہو رہا ہے، تو بتائیں میرے لیے کیا حکم ہے؟ شوہر کی بات کو مانوں یا میرے بہن بھائی جو کہہ رہے ہیں وہ مانوں؟ حالانکہ میں فائننشلی بھی ۔ جب کہ میرا گھر تین مرلے کا اور صرف دو بیڈ روم ہیں، ایک اوپر اور ایک نیچے، ایسی صورتحال میں میرے لیے کیا فرائض ہیں ؟کہ میں اپنی والدہ کی خدمت کر سکوں ،میں کرنا چاہتی ہوں، لیکن حالات ایسے نہیں ہیں،نہ شوہر کیطرف سے اجازت ہے، کیا میں گنہگار ہوں ؟بہن بھا ئی سب مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں ۔
جب میری والدہ کے گھٹنے کا آپریشن ہوا تھا تو میں تین ماہ تک امی کے گھر رہی تھی ،امی کی خدمت کے لیے، اس پر میرے شوہر تین ماہ کے لیے مجھ سے ناراض ہو گئے تھے ،اب میرے لیے بتائیں میں شوہر کی خدمت کروں یا والدہ کی خدمت کروں؟ اگر شوہر کو راضی کرتی ہوں تو بہن بھائی ناراض ہوتے ہیں، بہن بھائیوں کو راضی کرتی ہوں تو شوہر ناراض ہو جاتے ہیں، اس صورت میں کیسے اپنے اپنے فرائض کو پورا کروں؟
واضح ہوکہ والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک نہایت اہم فریضہ ہے، خصوصاً جب وہ بیماری اور بڑھاپے کا شکار ہوں۔ اسی طرح نکاح کے بعد عورت پر اپنے شوہر کے حقوق ادا کرنا اور اس کی جائز بات ماننا بھی واجب ہے۔ لہٰذا دونوں حقوق اپنی جگہ نہایت اہم ہیں، مگر ان کی ادائیگی کا طریقہ حالات کے مطابق متعین ہوتا ہے۔
لہذاصورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کی والدہ کی دیکھ بھال کے لیے بھائی اور بھابھی موجود ہیں، مالی وسعت اور ملازمین کا انتظام بھی ممکن ہے، تو والدہ کو اپنے پاس مستقل رکھنا سائلہ پر شرعاً لازم نہیں، خصوصاً ایسی حالت میں جب شوہرکی طرف سے اس کی اجازت نہ ہو توسائلہ کےلیے شوہر کی اجازت کے بغیر مستقل طور پر گھر چھوڑ کر رہنا یا والدہ کوگھرپررکھناجائز نہیں ہے۔چنانچہ اگرسائلہ شوہر کی جائز بات مانتے ہوئے اپنے گھر کا نظام برقرار رکھتی ہیں تو اس بنا پر وہ گناہ گار نہ ہوں گی۔
البتہ والدہ کے ساتھ تعلق، خدمت اور خیرخواہی حسبِ استطاعت جاری رکھنا ضروری ہے؛ مثلاً وقتاً فوقتاً عیادت کرنا، ممکن ہو تو کچھ وقت ان کے پاس گزارنا، مالی تعاون کرنا، علاج میں مدد دینا اور ان کے لیے دعا کا اہتمام کرنا۔ یہی جمعِ بین الحقوق (حقوق میں توازن) کا بہتر طریقہ ہے۔
مزید یہ کہ شوہر سے نرمی اور حکمت کے ساتھ بات کریں کہ وہ سائلہ کو مناسب حد تک والدہ کی خدمت کی اجازت دے دیں، اور بہن بھائیوں کو بھی سمجھائیں کہ شریعت نے عورت کو شوہر کی اطاعت کا پابند بنایا ہے، اس لیے وہ سائلہ کی مجبوری کو سمجھیں اورباہمی مشاورت اور تحمل سے مسئلہ حل کریں۔
کما فی السنن الكبرى للنسائي: عن عائشة قالت: سألت النبي صلى الله عليه وسلم أي الناس أعظم حقا على المرأة؟ قال: «زوجها» قلت: فأي الناس أعظم حقا على الرجل؟ قال: أمه الخ( کتاب عشرۃ النسآء،باب حق الرجل علی المرأۃ، ح9103 ، ج8، ص254، ط:مؤسسۃ الرسالۃ)۔
و فی السنن الكبرى للنسائي:عن حصين بن محصن، عن عمة له أنها أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجة فلما فرغ من حاجتها قال:أذات زوج أنت؟قالت: نعم قال:فكيف أنت له؟ قالت:ما آلوه إلا ما أعجز عنه قال:انظري أين أنت منه، فإنه جنتك ونارك الخ(کتاب عشرۃ النسآء،باب طاعۃ المرأۃ زوجھا،ح8914،ج8،ص185، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)۔
و فی الدر المختار:فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلة أو غاسلة لا فيما عدا ذلك الخ(کتاب النکاح،باب المھر،ج3،ص146،ط: ایچ ایم سعید)۔)
و فی الهندية:قال:ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا،أو ذميين قدرا على الكسب،أو لم يقدرا(الی قولہ)وإذا اختلطت الذكور والإناث فنفقة الأبوين عليهما على السوية في ظاهر الرواية، وبه أخذ الفقيه أبو الليث، وبه يفتى كذا في الوجيز للكردري الخ(کتاب الطلاق،الباب السابع،الفصل الخامس فی نفقۃ ذوی الارحام،ج1،ص564،ط: ماجدیۃ)۔