السلام علیکم
زید اپنے کاروبار میں مختلف خام مال جیسے رنگ یا کیمیکل کا استعمال کرتا ہے۔
بعض اوقات اگر کسی خام مال کی قیمت بڑھنے کا اندیشہ یا امکان ہو تو زید قیمت بڑھنے سے پہلے زیادہ مقدار میں خرید کر رکھ لیتا ہے۔
اگر کبھی مارکیٹ میں کسی خام مال کی قیمت بڑھنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو زید حارث سے کہتا ہے کہ تم میرے پاس انویسٹمنٹ کرلو۔ مثال کے طور پر ایک لاکھ روپے انویسٹ کرلو۔
حارث اسے ایک لاکھ روپے دے دیتا ہے۔
زید اس ایک لاکھ روپے سے رنگ خرید کر رکھ لیتا ہے۔
بعد میں (مدت غیر متعین) جب زید کو اس مال کی ضرورت ہوئی تو مارکیٹ میں اس کی قیمت ایک لاکھ بیس ہزار ہو چکی تھی۔ گویا بیس ہزار روپے کا فائدہ ہوا۔
زید نے دس ہزار کا منافع اپنے حصے میں رکھا دس ہزار کا حارث کے حصہ میں۔ (یہ پرسنٹیج پہلے سے طے نہیں تھی بلکہ زید نے موقع پر خود فیصلہ کیا)۔
اس کے بعد زید نے حارث کو ایک لاکھ (اصل رقم) جمع دس ہزار (منافع) کل رقم ایک لاکھ دس ہزار روپے حارث کو واپس کر دیے۔
سوال: کیا بیان کی گئی صورت زید اور حارث کے لئے جائز ہے؟
سوال میں زید اور حارث کے درمیان ہونے والے معاملے کی جو نوعیت ذکر کی گئی ہے، اس میں چونکہ کاروبار میں ہونے والے منافع کی تقسیم کے لیے کوئی فیصدی تناسب طے نہیں کیا گیا، اس لیے یہ صورت شرعاً درست نہیں ہے،البتہ اگر کاروبار میں ہونے والے منافع کی تقسیم کے لیے کوئی فیصدی تناسب طے کیا جائے اور اس مخصوص معاملے میں زید کی کوئی رقم شامل نہ ہو، تو زید کی طرف سے تعدی اور غفلت کے بغیر ہونے والے نقصان کی ذمہ داری حارث (سرمایہ فراہم کرنے والے) پر ڈالی جائے ،تو ایسی صورت میں یہ معاملہ شرعاً جائز اور درست ہوگا۔
کمافی البنایۃ :المضاربة عقد على الشركة بمال أحد الجانبين والعمل من الآخر، الخ(ج:10 ص : 75 موت رب المال والمضارب ناشر:دار کتب العلمیۃ )
وفی البحر الرائق: (هي شركة في الربح بمال من جانب وعمل من جانب) فلو شرط كل الربح لأحدهما لا يكون مضاربة ويجوز التفاوت في الربح وإذا كان المال من اثنين فلا بد من تساويهما فيما فضل من الربح حتى لو شرط لأحدهما الثلثان وللآخر الثلث فيما فضل فهو بينهما نصفين لاستوائهما في رأس المال وركنها اللفظ الدال عليها كقوله دفعت إليك هذا المال مضاربة أو مفاوضة أو معاملة أو خذ هذا المال واعمل به على أن لك من الربح نصفه أو ثلثه أو قال ابتع به متاعا فما كان من فضل فلك كذا أو خذ ذلك بالنصف،الخ(ج:7 ص :263 کتاب المضاربۃ ناشر : الثانیۃ)
وفی شرح المجلۃ :یشترط فی المضاربۃ کشرکۃ العقدکون رأس المال معلوما وتعیین حصۃ العاقدین من الربح جزءا ،الخ(ج: 4 ص : 332 فصل الثانی فی بیان شروط المضاربۃ ناشر: مکتبہ اسلامیۃ)
وفي شرح المجلۃ: اذا وقت رب المال المضاربۃ بوقت معین فمضی ذلک الوقت تنفسخ المضاربۃ ،الخ(ج: 4 ص: 358 فی بیان احکام المضاربۃ)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0