السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میری زندگی میں دو اہم دینی سوالات ہیں، جن پر رہنمائی درکار ہے:
سوال 1:
جب میں والدین کو اسلام کی کوئی بات یا حدیث بتاتا ہوں، خاص طور پر جھوٹ یا غیبت جیسے معاملات پر، تو وہ کہتے ہیں:
“تم ہمیں جواب دیتے ہو، والدین کی نافرمانی کرتے ہو، یہ بہت بڑا گناہ ہے۔”
ہر بات پر یہی جواب ملتا ہے۔
کیا بہتر ہے کہ میں والدین کے ہر گناہ پر خاموش رہوں اور اچھی باتیں صرف دوسروں کو بتاؤں، تاکہ گھر میں تلخی پیدا نہ ہو؟
سوال 2:
کچھ کام میں کہتا ہوں کہ یہ کام نہیں کرنا، لیکن زیادہ تر خود کرتا ہوں یا کبھی کہہ دیتا ہوں کہ بھائی سے کروا لو۔
کچھ کام والدین نہیں مانتے، لیکن میں اکثر کر دیتا ہوں۔ چھوٹے بھائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے کچھ نہ کہو، اور وہ اکثر منع کر دیتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے:
کیا یہ جائز ہے کہ میں چھوٹے بھائی کو کبھی کوئی معمولی کام دے دوں؟
والدین پر بھی اولاد کے کچھ حقوق ہوتے ہیں یا صرف اولاد پر فرمانبرداری لازم ہے؟
میں آپ کی رہنمائی اور واضح جواب کا منتظر ہوں۔
جزاکم اللہ خیر
صورت مسئولہ میں سائل کو چاہئے کہ حکمت وبصیرت کے ساتھ والدین کے حقوق و آداب کا خیال رکھتے ہوئے موقع محل کی مناسبت سے انہیں دینی رہنمائی فراہم کرتا رہے،امید ہے ان شاء اللہ اس کی بات والدین پر اثر کرے گی۔
جبکہ سائل کو والدین جس کام کا کہیں، اسے حتی المقدور خود انجام دینے کی کوشش کرے، کیونکہ بسا اوقات حکم دینے والا کسی خاص فرد کے اس حکم کی بجا آوری پر مطمئن ہوتا ہے، جبکہ جس طرح اولاد پر والدین کے حقوق لازم ہوتے ہیں، بعینہ والدین پر بھی اولاد کے حقوق لازم ہوتے ہیں، لیکن اگر والدین اولاد کے حقوق میں کچھ کمی کوتاہی کردیں تو اولاد کیلئے انہیں جتلانا اور سختی سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا قطعاً مناسب نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کما فی مشکوٰۃ المصابیح "عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: من أصبح مطیعاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن کان واحداً فواحداً، ومن أصبح عاصیاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن کان واحداً فواحداً، قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه. رواه البیهقي في شعب الإیمان".(کتاب الآداب،باب البر والصلۃ،الفصل الثالث،ج:3،ص:1382،ط:المکتب الاسلامی)
و فی تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی: (وعقوق الوالدين) بضم العين المهملة مشتق من العق وهو القطع والمراد به صدور ما يتأذى به الوالد من ولده من قول أو فعل إلا في شرك أو معصية ما لم يتعنت الوالد، وضبطه ابن عطية بوجوب طاعتهما في المباحات فعلا وتركا، واستحبابها في المندوبات وفروض الكفاية كذلك، ومنه تقديمهما عند تعارض الأمرين، وهو كمن دعته أمه ليمرضها مثلا بحيث يفوت عليه فعل واجب إن أستمر عندها ويفوت ما قصدته من تأنيسه لها وغير ذلك أن لو تركها وفعله وكان مما يمكن تداركه مع فوات الفضيلة كالصلاة أول الوقت أو في الجماعة(باب ما جاء فی عقوق الوالدین،ج:6،ص:23،ط:دارالکتب العلمیہ)