کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میر ابیٹا مسمی مدثر اقبال ولد ظفر اقبال عاقل، بالغ، حافظ قرآن ہے، سیلانی کے تحت کسی ادارے میں پڑھاتا ہے، تقریبا تیس بتیس سال عمر ہے ، ایک لڑکی سے دوستی ہے اور اسی سے شادی کا خواہشمند ہے ،لیکن لڑکی کے جو مطالبے ہیں وہ پورا کرنا میرے بس میں نہیں ہے، مکان نام کروانے کا مطالبہ کرنا ،نقد پیسوں کا مطالبہ کرنا وغیرہ، تو معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں میری ذمہ داری کیا ہے جبکہ میں اکیلی عورت ہوں میرا شوہر اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہتا ہے، تو کیا اس صورت میں اس طرح کی لڑکی سے شادی کرانا اور اس کے مطالبہ ماننا مجھ پر لازم ہے ، اگر یہ چیزیں میرے بس میں نہیں ہے اور میں نہ کرسکوں تو کیا میں عند اللہ گناہ گار ہونگی، یا یہ کہ ساری چیزیں اس کی ذمہ داری ہے، جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں ۔
واضح ہو کہ اولاد کی بلوغت کے بعد مناسب جگہ ان کا رشتہ کرانا والدین کی شرعی ذمہ داری ہے، لیکن رشتہ کے بعد شادی بیاہ اور حق مہر سمیت اس کے تمام اخراجات اور بیوی کا نان نفقہ، رہائش وغیرہ شرعاً لڑکے کے ذمہ لازم ہوتا ہے، لہذا سائلہ کے ذمہ مذکور لڑکی کے مطالبات پورے کرنا شرعا لازم نہیں ، اور نہ ہی اس کا اس نکاح سے انکار کرنے کی وجہ سے سائلہ گنہگار ہوگی، اس لئے اگر وہ لڑکی اور سائلہ کا بیٹا ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں تو دونوں کو ایک دوسرے کی مالی حیثیت اور صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے بڑوں کے مشورے سے کوئی اقدام کرنا چاہئے تاکہ بعد میں گھریلو زندگی میں پریشانیوں سے بچا جاسکے ۔
کما فی المشکاۃ المصابیح: وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه»اہ(کتاب النکاح،باب الولي في النكاح واستئذان المرأة، رقم الحدیث: ٣١٣٨، مط: المكتب الاسلامي،بيروت )
وفي مرقاة المفاتيح: من ولد له ولد) أي: ذكرا أو أنثى الى قولهإن بلغ) أي: وهو فقير (ولم يزوجه) أي: الأب وهو قادر اه(کتاب النکاح،باب الولي في النكاح واستئذان المرأة،ج:6، ص: ٣٠٠، مط: حقانية)
وفي كنز العمال: حق الولد على والده أن يحسن اسمه، ويزوجه إذا أدرك، ويعلمه الكتاب.(الباب السابع في بر الأولاد و حقوقهم،ج: ١٦، ص: ١٧٣، رقم الحديث: ٤٥١٨٣، مط: دار الكتب العلمية بيروت)
وفي الدر المختار مع التنوير الابصار: (وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره بقدر حالهما كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زادفي الاختيار والعيني: ومرافق،ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الافتاء به.(الى قوله) و في البحر عن الخانية: يشترط أن لا يكون في الدار أحد.
وفي رد المحتار: قوله وفي البحر عن الخانية إلخ) عبارة الخانية: فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لها أن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها. اهـ (باب النفقة، ج:٣،ص: ٦٠٠،مط:سعيد)