محترم مفتی صاحب،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میں اس وقت بیرونِ ملک مقیم ہوں اور رمضان المبارک کے دوران مختصر رخصت پر اکیلا اپنے آبائی وطن سفر کرنے والا ہوں۔ میری اہلیہ پہلے ہی اپنے وطن میں مقیم ہیں اور وہ سفر پر میرے ساتھ نہیں ہوں گی۔
میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا سفر کی وجہ سے میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں چند روزے مؤخر کر دوں اور بعد میں ان کی قضا ادا کر لوں؟ نیز چونکہ میری اہلیہ سفر میں شامل نہیں ہوں گی اور اپنے گھر ہی میں مقیم رہیں گی، کیا مسافر کی رخصت صرف مجھے حاصل ہوگی یا انہیں بھی روزہ مؤخر کرنے کی اجازت ہوگی؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں اور بتا دیں کہ کن شرائط کے تحت روزہ مؤخر کرنا جائز ہے۔
جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ شریعت مطہرہ نےمسافر کے لئے دورانِ سفر روزہ نہ رکھنے کی بھی اجازت دی ہے،لہذا سائل اگردورانِ سفر روزے نہ رکھنا چاہےتوسائل کے لیے ایسا کرنا جائز ہے،البتہ بعد میں ان روزں کی قضا کرنا لازم ہے،لیکن اگر دورانِ سفرروزہ رکھنے میں مشقت نہ ہوتو سائل کے لیے دورانِ سفر روزہ رکھنا بہتر اور افضل ہوگا، اس لیے سائل کو اگر مشقت نہ ہوتو دورانِ سفر بھی روزہ رکھنے کااہتمام کرنا چاہیے ،جبکہ سائل کی بیوی چونکہ اپنے گھر میں مقیم ہے، اس لیے سائل کو سفر کی وجہ سے ملنے والی رخصت میں سائل کی بیوی شامل نہ ہوگی بلکہ اس کے ذمہ رمضان المبارک کے روزے رکھنا لازم اور ضروری ہوگا۔
کمافی الدر المختار : فصل فی العوارض المبیحۃ لعدم الصوم : وقد ذکر المصنف (الی قولہ) وخوف هلاك أو نقصان عقل ولو بعطش أو جوع شديد ولسعة حية (لمسافر) سفرا شرعيا ولو بمعصية ۔الخ (کتاب الصوم،ج:2،ص:421،ط:سعید)
وفيه أيضاً: (وقضوا) لزوما (ما قدروا بلا فدية و) بلا (ولاء) لأنہ علی التراخی اھ(کتاب الصوم،ج:2،ص:423،ط:سعید)۔