سوال یه هے که میں ڈالر کرنسی پر صراف سے ین چاینیز کرنسی لیتا هوں اور اسکو ڈالر دیتا هوں اور وه مجھے چاینه میں ین جمع کرتا هے، تو اگر نقد لے لو تو ایک ریٹ دیتا هے اور اگر مهینے کا قرض پر لے لو تو ایکسچینج ریٹ زیاده لگاتا هے ،یعنی قرض کے بدلے ریٹ میں یا منافع میں اضافه کر لیتا هے، یه کام جائز هے یا ناجائز حرام هے؟
واضح ہو کہ مذکور معاملہ قرض کا نہیں، بلکہ بیع کا ہے،جبکہ ایک ملک کی کرنسی کی اھار بیع دوسرے ملک کی کرنسی سے ہو، تو اس میں احد البدلین (صورت مسئولہ میں ڈالر یا چائینی ین)پر قبضہ کرنا ضروری ہے، جو کہ صورت مسئولہ میں موجود ہے، تا ہم ادھار لینے کی وجہ سے کرنسی کے مقررہ ریٹ سے زیادہ ریٹ پر بیچنا چونکہ سود کیلئے حیلہ ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں ، اس لئے اس طرح کے کاروبار سے احتراز لازم ہے۔
کما فی فقہ البیوع: فالحاصل انہ ان بیعت الفلوس بجنسها يشترط التّقابض. لالكونه صرفا بل لوجود احد علتی الربا وهو الجنس. أمّا إذا بیعت بخلاف جنسھا جاز بقبض احد البدلین فی المجلس و لم یجز بدون ذالک(باب الصرف،باب ھل الاثمان الصطلاحیۃ یجری فیھا الصرف،ج:2،ص:722،طمکتبہ معارف القران کراچی)
وفی بحوث قضایا فقہیۃ معاصرۃ:وقد یقع اشکال علی جواز النسیئۃانہ لو اجیزت النسیئۃ فی مبادلۃ عملات مختلفۃ یمکن ان تصبح حیلۃ لاکل الربا فمثلاً اذا اراد المقرض ان یتقاضی عشر ربیات علی المائۃ المقرضۃ فانہ یبیع مائۃ ربیۃ نسیئۃ بمقدار ربیات زیادۃ علی المبلغ المقرض.و حل ھذا الاشکال ما ذکرنا من ان یشترط فی جواز النسیئۃ ان یکون بسعر المثل یوم العقد فان اشتراط ثمن المثل یقطع الاحتیال علی الربا الخ(البحث الخامس احکام الاوراق النقدیۃ،ج:1،ص:175،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1