اگر حمل کے ٹھہرنے کے تین چار ماہ بعد کسی ایشو کی وجہ سے میڈیکل ڈی ایم سی ہو جائے تو کیا اب خون بند ہونے پہ یا کبھی کبھی خون آنے پہ روزہ رکھ سکتی ہیں؟
صورت مسؤلہ میں حمل ضائع ہوجانے کی صورت میں اگر ساقط شدہ حمل کے اعضا (ہاتھ،پاؤں وغیرہ) کی ساخت ظاہر ہوچکی ہو تو اس کے بعدآنے والا خون نفاس شمار ہوگا،جس میں چالیس دن تک پاکی نہ آنے کی صورت میں نہ روزہ رکھنا جائز ہے اور نہ ہی دوسری عبادات ادا کرنا،البتہ اگر بچے کے أعضاء کی ساخت ظاہر نہ ہوئی ہو اور اس کا اسقاط ہو ا ہو تو اس کے بعد آنے والا خون اگر تین دن یا اس سے زیادہ جاری رہا تو یہ حیض کا خون شمار ہوگا،لہذا اس میں ایام عادت ، ورنہ دس دن تک عورت کے لیے نماز پڑھنا اور روزہ رکھنادرست نہ ہوگا البتہ اس کے بعد آنے والا خون استحاضہ کہلائیگا جسمیں طہارت حاصل کرنے کے بعد معمول کے مطابق جملہ عبادات کی پابندی ضروری ہوگی ۔
کما فی الدرالمختار: (ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوما (ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء والأمة أم ولد ويحنث به) في تعليقه وتنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شيء فليس بشيء، والمرئي حيض إن دام ثلاثا وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة،اھ(كتاب الطهارة،باب الحيض،ج: 1،ص: 302،مط: دار الفکر)
و فی تبیین الحقائق: الاستحاضة وهو الذي ينقص عن ثلاثة أيام أو يزيد على عشرة أو على أكثر النفاس كرعاف يعني حكمه كحكم رعاف دائم غير منقطع من وقت صلاة كامل لا يمنع صوما وصلاة ووطئا لقوله عليه الصلاة والسلام «توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير الخ (كتاب الطهارة، باب الحيض،ج: 1،ص: 64،مط: دار الکتاب الاسلامی)
و فی الھندیة: (الأحكام التي يشترك فيها الحيض والنفاس ثمانية) (منها) أن يسقط عن الحائض والنفساء الصلاة فلا تقضي. هكذا في الكفاية إذا رأت المرأة الدم تترك الصلاة من أول ما رأت قال الفقيه وبه نأخذ(الی قولہ)(ومنها) أن يحرم عليهما الصوم فتقضيانه هكذا في الكفاية،اھ(كتاب الطهارة،الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة،ج: 1،ص: 38،مط: دار الفکر)