میرے ایک بھائی ہیں، جو آٹزم کا شکار ہیں ،آپ کو معلوم ہےکہ ان کا نام مسلم ہے اس سال وہ پندرہ برس کے ہو گئے ہیں ۔جوں جوں وہ بڑے ہو رہے ہیں، والدین کے لیے معاملہ دن بدن مشکل بنتا جا رہا ہے، ان کا قد بھی بڑھ گیا ہے اب تقریبا 1.85 میٹر ہو چکا ہے، وہ اپنے والدہ کو مارتے ہیں اور والد کے پاؤں کے ٹخنے پر چاقو مار کر انہیں زخمی بھی کر چکے ہیں، وہ بہت زیادہ جارحانہ ہو گئے ہیں، میری والدہ رو رہی ہیں اور مزید برداشت کے لیے قابل نہیں رہیں،میری اپنی اعصابی طاقت بھی ختم ہو چکی ہے، بالکل ہمت نہیں رہی ،ایسی صورتحال میں اگر ہم اسے بچوں کے گھر( یتیم خانے/ خصوصی ادارے )میں داخل کر دیں تو کیا ہم گناہگار تو نہیں ہوں گے؟
واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ میں جس طرح صحت مند بچے کی پرورش، تربیت اور حفاظت لازم ہے، اسی طرح معذور بچے کی کفالت، تربیت اور دیکھ بھال بھی ضروری ہے،لہذا سوال میں ذکرکردہ وضاحت کے مطابق اگر بچہ آٹزم جیسی بیماری کا شکار ہو اور اسے والدین کے ساتھ درست برتاؤ کا شعورہی نہ ہو (جیساکہ سوال میں مذکورہے)، تو ایسی صورت میں اس کا کسی ماہر ڈاکٹر سے علاج کروانا چاہیے، اور اگر ممکن ہو تو اسے گھر میں الگ کمرے میں رکھ کر احتیاط کے ساتھ مناسب دیکھ بھال کرنا چاہیے ،لیکن اگر اس کے باوجود بھی والدین کوکسی طرح کےنقصان یا دیگر بچوں کے نقصان کا اندیشہ ہو، یا خود سے اس کی دیکھ بھال مذکور اعذا کی بناپر ممکن نہ رہے، تو ایسے بچے کو کسی ایسے ادارے میں داخل کرنا جہاں اس کی تربیت اور علاج درست طریقہ سے ہوسکتا ہو شرعاً جائز ہے،اور امیدہے کہ ایسی صورت میں والدین پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
كمافي مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « ما أنزل الله داء إلا أنزل له شفاء » رواه البخاري(کتاب الطب و الرقی،ج:2،ص:387،ط:قدیمی کتب خانہ)
وفي الدر المختار : (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا وزمن ومن يلحقه العار بالتكسب وطالب علم لا يتفرغ لذلك، كذا في الزيلعي والعيني اھ (باب النفقة،ج:3،ص:614،ط:سعيد)
وفي رد المحتار: (تحت قولہ مطلب شروط الحضانۃ) قال الرملي: ويشترط في الحاضنة أن تكون حرة بالغة عاقلة أمينة قادرة(الی قولہ) وهل يشترط كونها بصيرة؟ ففي الأشباه في أحكام الأعمى: ولم أر حكم ذبحه وصيده وحضانته ورؤيته لما اشتراه بالوصف، وينبغي أن يكره ذبحه. وأما حضانته فإن أمكنه حفظ المحضون كان أهلا وإلا فلا اهـ وهو بحث وجيه، وهو معلوم من قول الرملي " قادرة " كما يعلم منه حكم ما إذا كانت مريضة أو كبيرة عاجزة اهـ(باب الحضانۃ،ج:3،ص:556،ط:سعید)
وفي تنقیح الفتاوی الحامدیۃ: (سئل) في بكر بلغت مبلغ النساء وهي في حجر أمها المتزوجة بأجنبي وليس لها عصبة محرم وليست مأمونة على نفسها ولها عمة أمينة قادرة على الحفظ فهل للقاضي وضعها عند عمتها؟
(الجواب): نعم فإن لم يكن لها أب ولا جد ولا غيرهما من العصبات أو كان لها عصبة مفسد فالنظر فيها إلى الحاكم فإن كانت مأمونة خلاها تنفرد بالسكنى وإلا وضعها عند امرأة أمينة قادرة على الحفظ بلا فرق في ذلك بين بكر وثيب تنوير.(باب الحضانۃ،ج:1،ص:65،ط:حقانیۃ)
وفی الموسوعۃ الفقھیۃ: مقتضى الحضانة حفظ المحضون وإمساكه عما يؤذيه، وتربيته لينمو، وذلك بعمل ما يصلحه، وتعهده بطعامه وشرابه، وغسله وغسل ثيابه، ودهنه،وتعهد نومه ويقظته اھ(حق الحضانة،ج:17،ص:301،ط:وزارۃالاوقاف)۔