عورت اگر عمرے پر ہو اور اسکو وہاں پر حیض آجائے تو وہ کیا کرے؟یا جانے سے پہلے آجائے
اگر کسی عورت کو عمرے کا احرام باندھنے سے قبل حیض آجائے تو ایسی صورت میں اسے چاہئے کہ وہ میقات سے گزرتے وقت غسل یا وضو کرنے کے بعد عمرے کی نیت سے تلبیہ پڑھ لے ،لیکن اس وقت جو دور کعت نماز پڑھی جاتی ہے وہ نہ پڑھے ، چنانچہ ایسا کرنے سے وہ محرمہ بن جائے گی، اسی طرح احرام باندھنے کے بعد اگر اسے حیض آجائے تو پھر مکہ مکرمہ داخل ہونے کے بعد انتظار کرے، اور جب حیض سے پاک ہو جائے تو عمرہ کی ادائیگی کرے، لیکن اگر حیض سے پاک ہونے تک مکۃ المکرمہ میں قیام کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں بامرمجبوری فقہاء کرام نے حالت حیض میں ہی عمرہ کی ادائیگی کی گنجائش دی ہے ، تاہم اس صورت میں ناپاکی کی حالت میں عمرہ کی ادائیگی کی وجہ سے اس پر ایک دم دینا لازم ہوگا، جو حدود حرم میں ادا کیا جائیگا۔
کما روی البخاری بسندہ: عن عائشة قالت: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم لا نذكر إلا الحج، فلما جئنا سرف، طمثت، فدخل علي النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أبكي، فقال: (ما يبكيك). قلت: لوددت والله أني لم أحج العام. قال: (لعلك نفست). قلت: نعم، قال: (فإن ذلك شيء كتبه الله على بنات آدم، فافعلي ما يفعل الحاج، غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري).(کتاب الحیض،باب تقضی الحائض المناسک کلہا الاالطواف بالبیت،ج:1،ص:277،رقم الحدیث:305،ط: البشریٰ)
وفی الھدایۃ: وإذا حاضت المرأة عند الإحرام اغتسلت وأحرمت وصنعت كما يصنعه الحاج غير أنها لا تطوف بالبيت حتى تطهر " لحديث عائشة رضي الله عنها حين حاضت بسرف،(کتاب الحج،باب التمتع،ج:1، ص:156،ط:دار احیاء التراث)
وفی غنیۃ الناسک:وحیضھا لایمنع نسکا الا الطواف،فھو حرام من وجھین: دخولھا المسجد وترک واجب الطھارۃ،فلو حاضت قبل الاحرام اغتسلت واحرمت وشھدت جمیع المناسک الا الطواف والسعی لانہ لا یصح بدون الطواف ولایلزمھا دم لترک الصدر وتاخیرہ الزیارۃ عن وقتہ لعذر الحیض والنفاس. اھ(فصل فی احرام المرءۃ،ص:94،ط:ادارۃ القران والعلوم الاسلامیہ)
وفیہ ایضاً: و لو طاف للزیارۃ جنباً او حائضاً او نفساء کلہ او اکثرہ و ھو اربعۃ اشواط فعلیہ بدنۃ(باب الجنایات ،الفصل السابع،ص:272،ط: ادارۃ القران والعلوم الاسلامیہ)