السلام علیکم! میرا نام زبیر ہے اور میری والدہ اس وقت عدّت میں ہیں۔ میں حج پر جا رہا ہوں اور میرے بڑے بھائی ان کے ساتھ ہیں، لیکن ان کی ذہنی حالت درست نہیں ہے۔ اس وجہ سے مجھے فکر ہے کہ میری والدہ اکیلی کیسے رہیں گی، کیونکہ ان کے ساتھ کوئی خاتون موجود نہیں ہیں۔ اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ انہیں اپنے ماموں کے گھر منتقل کر دوں۔
میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ درست ہے اور کیا عدّت کے دوران وہ صرف اپنے گھر سے ماموں کے گھر تک کا سفر کر سکتی ہیں؟ فاصلہ صرف پانچ کلو میٹر ہے اور انہیں گاڑی میں مکمل پردے کے ساتھ بھیجا جائے گا۔ وہاں میری مامی اور کزنز موجود ہوں گے جو ان کے معاملات دیکھ سکیں گے،براہِ کرم اس بارے میں شرعی فتویٰ عطا فرمائیں۔جزاک اللہ۔
واضح ہو کہ مطلقہ یا بیوہ عورت پر عدت شوہر کے گھر گزارنا ہی لازم ہے، بلا کسی ضرورت شدیدہ کے کسی اور جگہ عدت پوری کرنا یا گھر سے باہر آنا جانا شرعاًجائز نہیں جس سے بہر صورت احترازلازم ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ کی دیکھ بھال کے لیے خاتون کی موجودگی لازم ہو تو اولا ًاس کا اہتمام کیا جائے کہ کسی قریبی عورت کو اس گھر میں والدہ کے ساتھ رہائش پرآمادہ کیا جائے، تاکہ عدت شوہر کے گھر ہی پوری ہو ،تاہم اگر کسی خاتون کا بندوبست اس گھر میں ممکن نہ ہو اور اکیلی رہنے کی صورت میں بیماری وغیرہ کی وجہ سے شدید تکلیف کا سامنا ہو اور وہ خدمت بیٹے کے لیے از خود کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں قریبی گھر منتقل ہونے کی گنجائش ہے، تاہم ایک دفعہ منتقل ہو جانے کے بعد عدت کے اختتام تک بلا ضرورت شدیدہ اس گھر سے نکلنا شرعاً جائز نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کمافی الدرالمختارشرح تنویرالابصار: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه،(ج:3، فصل في الحداد، ص:536، مط: ایچ ایم سعید کراچی)
وفی الھندیۃ: على المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت كذا في الكافي. لو كانت زائرة أهلها أو كانت في غير بيتها لأمر حين وقوع الطلاق انتقلت إلى بيت سكناها بلا تأخير وكذا في عدة الوفاة كذا في غاية البيان. إن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على مالها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل، وإن كانت تقدر على الأجرة لا تنتقل، وإن كان المنزل لزوجها وقد مات فلها أن تسكن في نصيبها إن كان ما يصيبها من ذلك ما يكتفى به في السكنى وتستتر عن سائر الورثة ممن ليس بمحرم لها كذا في البدائع، وإن كان نصيبها من دار الميت لا يكفيها فأخرجها الورثة من نصيبهم انتقلت كذا في الهداية. لو أسكنوها في نصيبهم بأجرة وهي تقدر على أدائها لا تنتقل كذا في شرح مجمع البحرين لابن الملك.(ج:1، الباب الرابع عشر في الحداد، ص: 535 مط: ماجدیۃ)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0