دہائیوں پہلے ایک صاحب سے ناعلمی میں سود پر رقم لی تھی ،اس کی ادائیگی کی سود در سود کر دی گئی ۔اب کچھ رقم سود کی مد میں 112300 روپے رہتی ہے وہ صاحب لوگوں میں واویلا کرتے رہتے ہیں،اس ادائیگی کے سلسلے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا احکامات ہیں ؟مجھے بوجھ سا بھی محسوس ہوتا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے اصل قرض کی رقم ادا کر دی ہے تو اب مزید سود کی مد میں کسی قسم کی ادائیگی سائل پر لازم نہیں ،بلکہ جانبین پر لازم ہے کہ فی الفور مذکورہ سودی معاملے کو ختم کر کے بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں اور سائل نے اگر اصل رقم سے زائد کی ادائیگی کی ہو تو مذکور شخص پر لازم ہے کہ زائد رقم سائل کو واپس کر دے تاکہ مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوشی ہو سکے۔
قال اللہ تبارک و تعالی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (278) فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (279) وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (الآیۃ 280۔ سورۃ البقرۃ)۔
و فی الصحیح لمسلم: لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم آکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ (باب الربا ج: 2 ص: 27 مطبوعہ کراچی)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1