زید کے پاس کچھ پیسے تھے جو اس نے میزان بینک انویسٹمنٹ میں جمع کروایئے تھے. اسکو ماہانہ کچھ پرافٹ آ جاتا تھا اس پر. اسکے کسی دوست کو کچھ پیسو کو ضرورت پڑی ، زید نے اسکو پیسے دے دیئے کچھ ماہ کے لیے ا ور بات کی کہ جب وہ واپس کرے گا تو جس شرح سے اسکو پرافٹ ملتا تھا وہ اتنی قیمت کے حساب سے اسکو پیسو ں کے بجائے کوئی گھر کی چیز لے دے گا. سوال یہ ہے کے کیا یہ جائز ہے یا سود کی مد میں آئے گا ؟ جزاک الله
واضح ہو کہ قرض دے کر مقروض سے کسی بھی قسم کا معروف یا مشروط نفع حاصل کرنا شرعاً سود کے حکم میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں زید کا اپنے دوست کو قرض دیتے وقت یہ شرط لگانا کہ واپسی کے وقت اسے اس شرح کے مطابق جس کے برابر اسے پہلے میزان بینک کی سرمایہ کاری سے منافع ملتا تھا، اصل قرض کے علا وہ کوئی گھریلو سامان وغیرہ خرید کر دے گا چونکہ قرض کے بدلے مشروط اضافی نفع ہے، جو سود کے حکم میں داخل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ۔ لہٰذا زید کے دوست پر صرف اصل قرض کی رقم ہی واپس کرنا لازم ہے۔ البتہ اگر زید نے اور کوئی اضافی چیز وصول کرلی ہو تو وہ اصل مالک کو واپس کرنا لازم اور ضروری ہوگا ۔
کمافی الدرالمختار مع رد المحتار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام ۔۔۔۔۔۔۔(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (ج5 ص:166 مطلب كل قرض جر نفعا حرام ط:ایچ ایم سعید )
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع : ( وأما ) الذي يرجع إلى نفس القرض : فهو أن لا يكون فيه جر منفعة ، فإن كان لم يجز ، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة ، على أن يرد عليه صحاحا ، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة ؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه { نهى عن قرض جر نفعا } ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا ؛ لأنها فضل لا يقابله عوض ، والتحرز عن حقيقة الربا ، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض ، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما ؛ فلا بأس بذلك (ج17 :ص:423 فصل فی شرائط رکن القرض ط:مصدر الكتاب : موقع الإسلام)
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1