ہم چار افراد نے مل کر ماربل فیکٹری لگائی ہے۔ دو افراد فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور دو سلیپنگ پارٹنر ہیں۔ کیا شریعت کی رو سے وہ لوگ جو کام کر رہے ہیں، اپنی خدمات کے عوض ماہانہ تنخواہ لے سکتے ہیں اور ساتھ ہی اپنی سرمایہ کاری کے مطابق منافع میں بھی حصہ پا سکتے ہیں؟ براہ کرم مفصل جواب دیں۔
مشترکہ کا روبار میں کام کرنے والے شریک کے لئے نفع کے فیصدی حصہ کے علاوہ الگ سے اجرت متعین کرنے کے بارے میں فقہاء کرام کی آراء مختلف ہیں، جس کی وجہ سے اگرچہ بعض اکابر اہل فتاوی نے اس کی گنجائش دی ہےبشرطیکہ دیگر شرکاءکی طرف سے تنخواه مقرر كرنے کی اجازت ہو، تاہم دیگرحضرات نے اسے ممنوع قرار دیاہے،اس لئے شرعی طور پر بے غبار اور درست صورت یہ ہے کہ کسی بھی کام کرنے والے شریک کی الگ سے تنخواہ مقرر کرنے کے بجائے ابتداء ہی سے اس کے نفع کا تناسب دوسرے پارٹنروں سے زیادہ مقررکرلیاجائے اگرچہ وہ اس کے لگائے ہوئےسرمایہ کے تناسب سے نسبتاً زیادہ ہو، اور جو شرکاء کام نہیں کرتے یا کم کام کرتے ہیں تو ان کےنفع کاتناسب ان کے لگائے ہوئےسرمایہ کے تناسب سے کم طےکیاجائے تاکہ سرمایہ اور نفع کی شراکت بھی باقی رہے اور زیادہ محنت کرنے والے کو اسکی محنت کا صلہ بھی دوسرے شرکاء کی بہ نسبت زیادہ ملتا رہے۔
كما في البناية شرح الهداية:ومن استأجر رجلا لحمل طعام مشترك بينهما لا يجب الأجر، لأنه ما من جزء يحمله إلا وهو عامل لنفسه فيه فلا يتحقق تسليم المعقود عليه) ش: وفيه خلاف الشافعي - رَحِمَهُ اللَّهُ -.قيل: هاهنا نظرانالأول في قوله حيث لا يجب الأجر كيف يقول لا يجب، لأنه قد وجب وقبض وهو نصف الطعام، ثم يقول لأن المستأجر ملك الأجر والثاني في قوله لأن ما من جزء يحمله إلا وهو عامل لنفسه نظر، فإن هذا ممنوع، لأن صورة المسألة أن الطعام مشترك بينهما، فكيف يقال إن كل جزء منه يكون الشريك الحامل له عاملا لفسد، وإن كان مراده أن ما من جزء إلا وهو مشترك بينهما فيكون بهذا الاعتبار عاملا لشريكه يعكس عليه ويقال: إنه إذا كان ما من جزء إلا وهو مشترك ببينهما فيكون بهذا الاعتبار عاملا لشريكه.ولكن الحق أن الجزء الذي لشريكه ليس هو عاملا لنفسه فيه، بل لشريكه فهو في الحقيقة عامل لنفسه، وعامل لشريكه فأخذه الأجرة في مقابلة عمله لشريكه اھ(باب الإجارة الفاسدة،ج:١٠،ص:٢٩٩،ط:المكتبةالغفارية)
وفی مبسوط السرخسی: قال: (والشريكان في العمل إذا غاب أحدهما، أو مرض، أو لم يعمل، وعمل الآخر: فالربح بينهما على ما اشترطا)؛ لما روي «أن رجلا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنا أعمل في السوق، ولي شريك يصلي في المسجد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لعلك بركتك منه». والمعنى أن استحقاق الأجر بتقبل العمل - دون مباشرته - والتقبل كان منهما، وإن باشر العمل أحدهما. ألا ترى أن المضارب إذا استعان برب المال في بعض العمل كان الربح بينهما على الشرط. أولا ترى أن الشريكين في العمل يستويان في الربح، وهما لا يستطيعان أن يعملا على وجه يكونان فيه سواء، وربما يشترط لأحدهما زيادة ربح لحذاقته، وإن كان الآخر أكثر عملا منه، فكذلك يكون الربح بينهما على الشرط ما بقي العقد بينهما، وإن كان المباشر للعمل أحدهما، ويستوي إن امتنع الآخر من العمل بعذر، أو بغير عذر؛ لأن العقد لا يرتفع بمجرد امتناعه من العمل، واستحقاق الربح بالشرط في العقد اھ( كتاب الشركة،ج:١١،ص:١٥٧،ط:جدارالفکر)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0