محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! میرا نام محمد وسیم فاروق ہے اور میری عمر 35 سال ہے، میں ایک شرعی مسئلے کے سلسلے میں آپ کی رہنمائی کا طالب ہوں، میں اپنے والدین کی جتنی مالی مدد کر سکتا ہوں، کرتا ہوں، الحمدللہ۔ لیکن اس کے باوجود وہ اکثر مجھ سے شکوہ کرتے ہیں، میرے باقی بھائیوں میں سے ایک کام کرتا ہے اور دوسرا نہیں کرتا، جو کام نہیں کرتا، اس کی ضروریات خاندان کی جائیداد کے کرائے سے پوری ہو جاتی ہیں، لیکن والدین مجھ سے راضی نہیں ہوتے۔ میں اپنی استطاعت اور حیثیت کے مطابق بھرپور کوشش کرتا ہوں، لیکن ان کی غیر معقول توقعات اور شکوے کی وجہ سے میں دل سے پریشان اور اپنی نظر میں کم تر محسوس کرتا ہوں، مجھے بخوبی احساس ہے کہ جب میں چھوٹا تھا، تو والدین نے میرے لیے بہت کچھ کیا: مجھے پڑھایا، لکھایا اور کام کرنے کے قابل بنایا۔ اب میری محدود آمدنی اور دیگر ذمہ داریوں کے باوجود، وہ اکثر غیر معقول مطالبات کرتے رہتے ہیں اور خوش نہیں ہوتے، جس سے میری روحانی اور نفسیاتی حالت متاثر ہوتی ہے،
مفتی صاحب! براہِ کرم شرعی نقطہ نظر سے میری رہنمائی فرمائیں:کیا میں اپنی حیثیت کے مطابق والدین کی مالی مدد کرنے میں حق ادا کر رہا ہوں؟اگر والدین کبھی راضی نہ ہوں اور غیر معقول توقعات رکھیں تو میری ذمہ داری کس حد تک ہے؟اس کیفیت میں میری دل کی حالت، پریشانی اور نظریں گرنے پر شرعی طور پر کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟اس معاملے میں دینِ اسلام کی روشنی میں بہترین رویہ کیا ہے ، تاکہ میں بھی دل و دماغ سے مطمئن رہ سکوں؟آپ کی رہنمائی اور نصیحت کا منتظر ہوں۔
صورت مسئولہ میں اگر سائل اپنی آمدنی، ضروری اخراجات اور دیگر ذمہ داریوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے والدین کی مناسب مالی مدد کررہاہو،تو محض والدین کی غیرمعقول توقعات پوری نہ ہونے کی وجہ سے وہ شرعاً قصوروار نہیں ہوگا، اس لیے سائل کو چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت رکھتےہوئے والدین کی خدمت جاری رکھے، ان کے شکووں سے دل برداشتہ نہ ہو ۔
اسی طرح والدین کو بھی چاہیے کہ اولاد کی مالی استطاعت اور دیگر ذمہ داریوں کا لحاظ رکھتےہوئےغیرضروری مطالبات اور مسلسل شکووں سے اجتناب کریں،نیز ایک اولاد کو دوسری کے مقابلے میں بلاوجہ ملامت کرنےسےبھی گریز کریں اور جو کچھ اولاد اپنی استطاعت کے مطابق پیش کرے اسے قدر و تشکر کے ساتھ قبول کرلیں۔
کما فی الفتاوى الهندية : قال: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا، أو ذميين قدرا على الكسب،(الی قولہ)وإذا اختلطت الذكور والإناث فنفقة الأبوين عليهما على السوية في ظاهر الرواية، وبه أخذ الفقيه أبو الليث، وبه يفتى كذا في الوجيز للكردري الخ (ج1 ص564 کتاب الطلاق،الباب السابع عشر،الفصل الخامس فی نفقۃ ذوی الارحام ط: ماجدیۃ)۔
وفی الھدایہ : وعلى الرجل أن ينفق على أبويه وأجداده وجداته إذا كانوا فقراء وإن خالفوه في دينه" أما الأبوان فلقوله تعالى: {وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفاً} [لقمان: من الآية 15] ج،2، ص :293
وفي البدائع: وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى {إن الله يأمر بالعدل والإحسان} [النحل: 90] . (وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى ... ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة. (كتاب الهبة، ج: 6، ص: 127)