السلا م علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری والدہ کے پچھلے پندرہ بیس سالوں سے کسی ڈاکٹر کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں ، کئی بار ہم نے انھیں مختلف طریقوں سے ڈاکٹر سے ملتے ہوئے اور رابطہ رکھتے ہوئے پکڑا ہے ، بظاہر نماز ، تہجد، ذکر اور تلاوت میں مشغو ل رہتی ہے ، دادی ، نانی بن چکی ہے، لیکن اب بھی اپنی اس روش پر قائم ہیں ، ہمارے والد اس سے بے خبر ہیں ، شاید! ہم نے جب بھی انھیں رنگے ہاتھوں پکڑا ، انھوں نے ہمیں ذہنی اذیت دی کہ ایسا کچھ نہیں ہے ، آپ سب نے مجھ پر تہمت لگائی ہے ، اس معاملے سے سب بہنیں اور بھائی با خبر ہیں ، شریعت میں والدہ کا بڑا مقام اور مرتبہ ہے، والدہ بہت خود غرض ہیں، ہمارے لیے کیا حکم ہے ، ایسی والدہ کے ساتھ کتنا تعلق رکھا جائے ، مختصراً والدہ کی عمر تقریباً 47 سال ہے، مہربانی فرماکر دین کی رو سے جواب دے کر میری اس کشمکش میں رہنمائی فرمائیں ۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائل کی والدہ کامذکور رویہ شرعاً ناجائز و حرام اور گناہ کبیر ہ ہے، ا ن پر لازم ہے کہ وہ اپنی ان ناجائز حرکات سے جلد از جلد بصدق دل توبہ تائب ہوکر آئندہ اس قسم کے ناجائز تعلقات قائم کرنے سے اجتناب کرے، تاہم سائل اور دیگر بہن بھائیوں پر لازم ہے کہ اس معاملہ میں جذبات میں آکر کوئی ایسا اقدام کرنا کہ جس سے بعد میں مزید رسوائی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے اور اپنے کیے پر پچھتاوا ہو، درست او ر مناسب نہیں ، بلکہ اس معاملہ کو پردہ پوشی کےساتھ اور حکمت و مصلحت سے حل کرنے اور والدہ کی ہدایت کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے اور ہوسکے تو کسی صاحب نسبت بزرگ کے ذریعہ ان کو سمجھانے کی کوشش کی جائے ، تاہم اس کے باوجود اولاد کیلئے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ، ان کی عزت کرنا اور ان کے آرام و راحت کاخیال رکھنا ضروری ہے ، قطع تعلقی کرنا جائز نہیں ۔
کمافي القرآن المجيد والفرقان الحميد: إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗاﵞ(سورۃ الاسراء، رقم الآیۃ: ٢٣)
وفيه ايضاً: وَإِن جَٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَاۖ وَصَاحِبۡهُمَا فِي ٱلدُّنۡيَا مَعۡرُوفٗاۖ (سورة لقمان، رقم الایۃ: ١٥)
وفي الصحيح البخاري: عن أسماء قالت: قدمت أمي وهي مشركة، في عهد قريش ومدتهم إذ عاهدوا النبي صلى الله عليه وسلم، مع أبيها، فاستفتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: إن أمي قدمت وهي راغبة؟ قال: (نعم، صلي أمك).(كتاب الأدب، باب صلة المرأة امها و لها زوج، ج: ٤، رقم الحديث: ٥٩٧٩، مط: البشرى)
وفي ردالمحتار : إذا رأى منكرا من والديه يأمرهما مرة، فإن قبلا فبها، وإن كرها سكت عنهما واشتغل بالدعاء والاستغفار لهما فإن الله تعالى يكفيه ما أهمه من أمرهما.اھ(باب التعذیر، فرع، ج: ٤، ص: ٧٨، مط: سعيد)