گزارش یہ ہے کہ اگر کوئی جان بوجھ کر روزہ توڑ دے تو اس کو لگاتار 60 روزے رکھنے پڑیں گے۔ کیا ایک مرتبہ 60 روزے رکھ لیں تو وہ ان تمام روزوں کا کفارہ ہو جائے گا جو کسی شخص نے اپنی گذشتہ زندگی میں جان بوجھ کر توڑا ہوگا۔ یا ہر روزے کے کفارے کے لیے الگ الگ لگاتار 60 روزے رکھنے پڑیں گے؟ کیا کفارہ ادا کرنے کے لیے کوئی اور صورت بھی ہو سکتی ہے؟ شکریہ
واضح ہو کہ اگر کسی شخص نے رمضان المبارک میں جان بوجھ کر بلا عذر شرعی روزہ توڑ دیا تو اس پر کفارہ لازم ہوگا، چنانچہ اگر کسی نے اس طرح کئی روزے توڑے ہوں اور اب تک کفارہ ادا نہ کیا ہو تو تمام روزوں کی طرف سے ایک کفارہ کافی ہوجائے گا، لیکن اگر بیوی سے ہمبستری کرکے روزہ توڑا ہو تو اگر یہ واقعہ ایک رمضان میں کئی دفعہ پیش آیا ہو تو ان سب روزوں کی طرف سے بھی ایک کفارہ کافی ہوجائے گا، لیکن اگر ایک سے زائد رمضان المبارک میں یہ واقعہ رونما ہوا ہو تو ایسی صورت میں ہر رمضان المبارک کا الگ الگ کفارہ لازم ہوگا، چنانچہ جو شخص روزہ رکھنے پر قادر ہو، اس کے لیے ساٹھ روزے رکھ کر ہی کفارہ دینا لازم ہوگا۔
ففي الدر المختار: «(أفطر في رمضان في يوم ولم يكفر حتى أفطر في يوم آخر فعليه كفارة واحدة) ولو في رمضانين على الصحيح، وقدمناه في الصوم» (6/ 734)
وفي حاشية ابن عابدين: «(قوله فعليه كفارة واحدة) لأن الكفارة تسقط بالشبهة فتتداخل كالحد مجتبى. ثم قال: واختلف في التداخل فقيل لا تجب الثانية لتداخل السبب، وقيل تجب ثم تسقط، فأما إذا كفر الأول فلا اجتماع فلا تداخل. (قوله ولو في رمضانين إلخ) لو وصلية، وأشار إلى أن التقييد برمضان واحد خلاف الصحيح وهو رواية عن محمد. قال في المجتبى: وأكثر مشايخنا قالوا الاعتماد على تلك الرواية، والصحيح أنه يكفيه كفارة واحدة لاعتبار معنى التداخل (قوله ولم يعين) أي أنه عن يوم كذا» (6/ 734)
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: «ولو جامع في رمضان متعمدا مرارا بأن جامع في يوم ثم جامع في اليوم الثاني ثم في الثالث ولم يكفر فعليه لجميع ذلك كله كفارة واحدة عندنا، وعند الشافعي عليه لكل يوم كفارة، ولو جامع في يوم ثم كفر ثم جامع في يوم آخر فعليه كفارة أخرى في ظاهر الرواية، وروى زفر عن أبي حنيفة أنه ليس عليه كفارة أخرى، ولو جامع في رمضانين ولم يكفر للأول فعليه لكل جماع كفارة في ظاهر الرواية.» (2/ 101)